اسرائیلی قبضہ ختم اور 1967 کی سرحدوں پر آزاد فلسطین بنے: اقوام متحدہ میں پاکستان کا دبنگ موقف، سعودی عرب پر حوثی حملوں کی بھی شدید مذمت!

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں غزہ اور مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غاصب اسرائیلی قبضے کے فوراً اور مستقل خاتمے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

نیویارک میں مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے واضح کیا کہ عالمی برادری کو اب ایک حتمی اور ناقابلِ تنسیخ ٹائم فریم مقرر کرنا ہوگا، جس کے تحت 1967سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔

سفیر عثمان جدون نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ جب تک صہیو نی قبضہ برقرار رہے گا اور فلسطینی عوام کو ان کا بنادی حقِ خودارادیت نہیں مل جاتا، مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام ناممکن ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں یہ واضح اتفاقِ رائے سامنے آیا ہے کہ دو ریاستی حل ہی منصفانہ امن کی ناگزیر بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرارداد 2803 غزہ کے لیے جامع منصوبہ اور نیویارک اعلامیہ امن کی کوششوں کو تقویت دیتے ہیں، لیکن اسرائیل دانستہ طور پر زمینی حقائق کو ناقابلِ واپسی بنا کر عالمی اتفاقِ رائے کو تار تار کر رہا ہے۔

پاکستانی مندوب نے مقبوضہ مغربی کنارے اور خصوصاً ای ون منصوبے کے تحت یہودی بستیوں کی توسیع، فلسطینی علاقوں کے باہمی زمینی رابطے منقطع کرنے، مکانات کی مسماری اور جبری بے دخلی کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اسے الحاق کی بھیانک کوشش قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کے مطابق تمام غیر قانونی آباد کاری کو فوری روکا جائے، آباد کاروں کے تشدد کا خاتمہ ہو اور مسجدِ اقصیٰ کے تاریخی و قانونی قدسیت کو بحال رکھا جائے۔

غزہ میں انسانی المیے پر بات کرتے ہوئے عثمان جدون نے کہا کہ مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، معصوم شہریوں کا قتلِ عام اور امداد کی فراہمی پر سخت پابندیاں صورت حال کو گھمبیر بنا رہی ہیں، جبکہ آنے والا موسمِ سرما ان مشکلات کو مزید بھیانک بنا دے گا۔

یہ بھی پڑھیں : اقوام متحدہ کےسیکرٹری جنرل نےعالمی امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا

انہوں نے بلا تعطل انسانی امداد کی فراہمی، بحالی کے کاموں کی شروعات اور یو این آر ڈبلیو اے کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، جبکہ فلسطینی اتھارٹی کے بلاک کیے گئے مالیاتی فنڈز کی فوری واگزاری کا مطالبہ بھی کیا۔

خطاب کے آخر میں سفیر عثمان جدون نے سعودی عرب کی اقتصادی و شہری تنصیبات پر حوثی باغیوں کے حملوں کی پرزور مذمت کی اور کہا کہ یہ حملے فی الفور بند ہونے چاہئیں۔

انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور دفاع کے آئینی و بین الاقوامی حق کی غیر متزلزل حمایت کرتا ہے اور یمن میں پائیدار امن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی مذاکراتی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔

Scroll to Top