مفتی محمود کے ’گناہِ پاکستان‘ والے اعتراف کی ویڈیو وائرل، فضل الرحمان کا پاکستان مخالف چہرہ قوم کے سامنے عیاں

اسلام آباد: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (ٹویٹر) پر ممتاز داعیِ قرآن اور مذہبی اسکالر ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کا ایک چونکا دینے والا ویڈیو کلپ وائرل ہونے کے بعد جمعیت علمائے اسلام (ف) اور اس کی قیادت کا تاریخ اور ملک دشمنی پر مبنی بیانیہ ایک بار پھر شدید عوامی و سیاسی تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔

 وائرل ویڈیو میں ڈاکٹر اسرار احمد کو انکشاف کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ فضل الرحمان کے والد اور جے یو آئی کے سابق سربراہ مفتی محمود نے علانیہ کہا تھا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں ہوئے۔

 اس تاریخی سچائی کے سامنے آنے کے بعد عوامی و مذہبی حلقوں میں جے یو آئی کے نظریاتی سفر پر گہرے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

سیاسی و دفاعی تجزاریہ نگاروں کے مطابق اس پرانے کلپ کو وائرل کرنے کا بنیادی مقصد فضل الرحمان کے موجودہ مشکوک اور قومی سلامتی کے منافی رویے کا محاکمہ کرنا ہے۔

 ایک طرف جہاں فضل الرحمان کے آباؤ اجداد پاکستان کے وجود کو گناہ قرار دیتے رہے، وہیں دوسری جانب خود فضل الرحمان پر یہ شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ ملک کی سالمیت پر حملے کرنے والی بھارتی سرپرست یافتہ دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے گھناؤنے مظالم پر مسلسل مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

 ملک دشمن عناصر اور دہشت گردوں کی کھل کر مذمت نہ کرنا اس بات کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے کہ فضل الرحمان آج بھی اپنے والد کی اسی پاکستان مخالف سوچ پر گامزن ہیں۔

یہ بھئی پڑھیں : صوبے بھر میں ترقی کا پہیہ تیز، ہسپتالوں، اسکولوں اور سڑکوں کی بحالی کا 180 روزہ پلان تیار

اس تناظر میں معروف سوشل میڈیا شخصیت سلمان درانی نے جے یو آئی کے کارکنان کے ردِعمل پر سخت تعاقب کرتے ہوئے لکھا کہ مولانا کے پیروکاروں کو اشتعال میں آنے کے بجائے تاریخ کے تلخ حقائق کا مطالعہ کرنا چاہیے اور ڈاکٹر اسرار احمد کی باتوں کو ٹھنڈے دل سے سننا چاہیے۔

 انہوں نے واضح کیا کہ دینی مدارس یا ان کے تعلیمی نیٹ ورک سے کسی کو اختلاف نہیں، لیکن جب بھی فضل الرحمان نظریۂ پاکستان، بانیانِ پاکستان اور ملک کی سلامتی و سالمیت کے خلاف زہر اگلیں گے یا دفاعی اداروں کے مقابل آئیں گے، تو انہیں اینٹ کا جواب پتھر اور قاطع دلائل سے دیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت جب پاکستان دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ہے اور مسلح افواج ملک کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں، ماضی کے ان غدارانہ بیانات اور موجودہ طالبان پرور رویوں کا سامنے آنا انتہائی اہم ہے۔

 قومی سلامتی کے اس حساس موڑ پر ریاست اور عوام کو یہ دیکھنا ہوگا کہ کون ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کا محافظ ہے اور کون ماضی کی طرح آج بھی پاکستان کے وجود اور اس کے دفاعی نظام کو کمزور کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے۔

Scroll to Top