ملتان کے مدرسے کے ایک عام طالبعلم کی اربوں کی سلطنت، فضل الرحمان کے بے نامی محلات اور کالی کمائی کا مکروہ دھندہ بے نقاب

اسلام آباد: ملتان کے ایک عام مدرسے کے طالب علم سے لے کر وفاقی اقتدار کے ایوانوں، قومی اسمبلی کے حجروں اور کشمیر کمیٹی کی چیئرمینسی تک رسائی حاصل کرنے والا فضل الرحمان آج پاکستانی سیاست کا وہ نام بن چکا ہے جو ہمیشہ اقتدار کے کھلونوں سے کھیلتا رہا ہے۔

 لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک معمولی پس منظر سے تعلق رکھنے والا یہ خاندان ڈیرہ اسماعیل خان سے لے کر اسلام آباد تک کروڑوں اور اربوں روپے کی جائیدادوں، عالیشان بنگلوں اور وراثتی محلات کا مالک کیسے بن گیا؟ کیا اس بے پناہ دولت اور املاک کے ذرائع کبھی عوام یا کسی ادارے کے سامنے رکھے گئے؟

اس سیاسی و مالی عروج کی کہانی کی جڑیں 1947 کی تقسیمِ ہند کے تاریخ دانوں کے ریکارڈ میں ملتی ہیں۔ جب برصغیر کے مسلمان اپنی الگ اور آزاد مملکت حاصل کرنے کے لیے خون کا نذرانہ دے رہے تھے، تب جمعیت علمائے ہند کے رہنما پاکستان کے قیام کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔

فضل الرحمان کے والد مرحوم مفتی محمود بھی اسی نظریاتی دھارے کے ہمنوا تھے، جنہوں نے کھلے عام یہ اعتراف کیا تھا کہ وہ پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں ہوئے، جبکہ اس کے برعکس مولانا شبیر احمد عثمانی جیسے جید علماء نے قائدِ اعظم کے ساتھ کھڑے ہو کر پاکستان کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔

یہ بھی پڑھیں : مفتی محمود کے ’گناہِ پاکستان‘ والے اعتراف کی ویڈیو وائرل، فضل الرحمان کا پاکستان مخالف چہرہ قوم کے سامنے عیاں

سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا باپ کے یہ پاکستان مخالف نظریات بیٹے کی سوچ کا بھی محور ہیں؟ 1970 کے انتخابات میں محض انگنت نشستیں حاصل کرنے والی جے یو آئی کو جب 1972 میں نیشنل عوامی پارٹی کے ساتھ گٹھ جوڑ کا موقع ملا تو مفتی محمود صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کے وزیرِ اعلیٰ بن بیٹھے۔

1980 میں والد کے انتقال کے بعد فضل الرحمان نے جماعت کی باگ ڈور سنبھالی اور پھر اقتدار کی ہوس میں ہر حکومت اور اتحادی صف کا حصہ بننے کا ہنر سیکھ لیا۔

فضل الرحمان کی سیاست کا سب سے تاریک اور متنازع باب ان کے خاندان کے مالی معاملات ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں چار وسیع و عریض گھروں کی ملکیت ہو یا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پوش سیکٹرز میں عالیشان بنگلے اور جائیدادیں، ان تمام املاک کی اصل حقیقت کیا ہے؟

 دہائیوں تک اقتدار کے مزے لوٹنے، وزارتوں کے مزے اڑانے اور کشمیر کمیٹی کی چیئرمینسی کے ذریعے سرکاری وسائل استعمال کرنے والے فضل الرحمان نے اپنے آبائی شہر ڈیرہ اسماعیل خان کے غریب عوام کے لیے کیا کارنامہ سر انجام دیا؟ سوائے اس کے کہ ان کے اپنے خاندانی محلات بلند ہوتے گئے، عوام غربت کی چکی میں پستے رہے۔

یہ بھی پڑھیں : خود قائد، بھائی سینیٹر، بیٹا وزیر،40 ہزار مدارس کے بچے سیاسی جلسوں کا ایندھن، فضل الرحمٰن کے ٹیکس ریکارڈ اور گاڑیوں کا حساب مانگنے کا وقت آ گیا

دلچسپ امر یہ ہے کہ جو شخصیت آج صوبائی خودمختاری، جمہوری اصولوں اور گورنر راج کی مخالفت میں سب سے آگے نظر آتی ہے، کیا اس کی اپنی جماعت کے اندر بھی جمہوریت کی کوئی گنجائش ہے؟

 حقیقت یہ ہے کہ جے یو آئی میں کبھی کوئی اندرونی انتخابات نہیں ہوتے؛ یہاں قیادت کا فیصلہ بیلٹ باکس سے نہیں بلکہ خاندانی وراثت اور جانشینی کے اصول پر ہوتا ہے۔

جو شخص ہمیشہ دوسروں سے کڑے احتساب کا مطالبہ کرتا ہے، کیا وہ کبھی اپنی پارٹی کی فنڈنگ، خاندانی جائیدادوں کی دستاویزات اور ذاتی مالی معاملات کا حساب کتاب قوم کے سامنے پیش کرنے کی جرات کرے گا؟

 تاریخ گواہ ہے کہ جب جب اس خاندان کا احتساب اور سیاسی کردار کٹہرے میں آیا ہے، ان کے پاس طفل مکتب جیسے بہانوں کے علاوہ دینے کے لیے کوئی جواب نہیں ہوتا۔

Scroll to Top