اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صوبائی حکومت کے دور میں خیبر پختونخوا کے قدرتی وسائل کی مبینہ لوٹ مار اور بے دریغ بندر بانٹ کا پردہ فاش ہو گیا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے سرکاری اعداد و شمار کے ذریعے ثابت کر دیا ہے کہ صوبے میں معدنیات کے لائسنسز کی اندھا دھند بندر بانٹ مکمل طور پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دورِ حکومت میں ہوئی، جبکہ قومی سلامتی کے عسکری اداروں کو اس معاملے میں بلاوجہ گھسیٹنے کی کوشش کی جا رہی تھی، حالانکہ ان کا اس شعبے سے سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر جاری کردہ اپنی تفصیلی اور حقائق پر مبنی پوسٹ میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے خیبر پختونخوا میں مائننگ لائسنسز کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا۔
انہوں نے بتایاکہ قیامِ پاکستان سے لے کر سال 2010 تک (تقریباً 63 سالوں میں) صوبے بھر میں معدنیات کے صرف 482 لائسنس جاری کیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کا 11 سالہ اقتدار صوبے کو کھنڈر بنا گیا, کے پی کے سرکاری اسکولوں کے 37 ہزار کے قریب کلاس رومز خستہ حال
تاہم، جیسے ہی پی ٹی آئی صوبے کے اقتدار پر قابض ہوئی، اپنے چہیتوں کو نوازنے اور وسائل کو بے دردی سے لٹانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں 2020 تک لائسنسز کی تعداد چھلانگ لگا کر 1,762 تک پہنچ گئی، فروری 2024 تک یہ تعداد مزید بڑھ کر 3,962 ہو گئی، جبکہ موجودہ وقت میں صوبے بھر میں کل مائننگ لائسنسز کا حجم ڈرامائی طور پر 4,917 تک پہنچ چکا ہے۔ ان میں سے 4,133 لائسنس آباد اضلاع اور 784 لائسنس ضم شدہ اضلاع میں جاری کیے گئے۔
وزیر دفاع نے عسکری اداروں کے خلاف پھیلائی جانے والی من گھڑت افواہوں اور بے بنیاد بیانیے کو اکھاڑ پھینکتے ہوئے واضح کیا کہ اس طویل عرصے کے دوران عسکری ادارے فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کو صرف اور صرف ایک لائسنس جاری کیا گیا تھا، جو 2015 میں شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں دیا گیا تھا تاکہ وہاں تعمیراتی اور بحالی کے اہم اور قلیل مدتی کام سرانجام دیے جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : قومی اداروں کی بدولت ہی سرحدیں محفوظ ہیں، فضل الرحمان اپنا متنازع بیان فوری واپس لیں، عوام کا سخت ردِعمل
خواجہ آصف نے مزید سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت بھی صوبائی محکمہ کے پاس 500 سے زائد نئی درخواستیں زیرِ غور ہیں، جن میں سے ایک بھی درخواست کسی عسکری ادارے کی جانب سے جمع نہیں کروائی گئی ہے۔
اس سے یہ حقیقت شیشے کی طرح صاف ہو جاتی ہے کہ کے پی کے کے معدنی وسائل پر حق ڈالنے اور بندر بانٹ کرنے میں پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کا ہاتھ ہے، جبکہ اپنے کرپٹ فیصلوں کو چھپانے کے لیے قومی سیکیورٹی کے اداروں کو بدنام کرنے کی مذموم کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کے جاری کردہ ان چونکا دینے والے حقائق نے پی ٹی آئی کے جھوٹے بیانیے کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ صوبے کے قدرتی وسائل کی بندر بانٹ کی تمام تر اخلاقی و قانونی ذمہ داری خیبر پختونخوا کی سابقہ و موجودہ پی ٹی آئی قیادت پر ہی عائد ہوتی ہے۔





