پشاور: خیبر پختونخوا میں ایک دہائی سے زائد عرصے تک حکمرانی کرنے والی تحریکِ انتشار کی بدعنوان اور ناکام پالیسیوں نے صوبے کے تعلیمی نظام اور انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر کھنڈر بنا کر رکھ دیا ہے۔
محکمہ تعلیم کے مستند ذرائع سے سامنے آنے والے دل دہلا دینے والے انکشافات کے مطابق صوبے کے سرکاری اسکولوں کے 36 ہزار 967 کلاس رومز انتہائی خستہ حال اور زبوں حالی کا شکار ہیں، جن میں سے 19 ہزار 224 کلاس رومز اس حد تک بوسیدہ ہو چکے ہیں کہ انہیں ڈھاکر ازسرنو تعمیر کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ 17 ہزار 743 کلاس رومز کو فوری اور بڑی مرمت درکار ہے۔
یہ بھیانک اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والی پی ٹی آئی کی سابقہ صوبائی حکومتوں نے تعلیم کے بجٹ پر ڈاکہ ڈال کر اور کرپشن کی ہوس میں پورے صوبے کے مستقبل کو خطرناک اور موت کے کنویں جیسے ہالوں میں دھکیل دیا۔
یہ بھی پڑھیں : وزارتوں کا غم اب گورنر راج پر جا اٹکا، گورنر راج آئینی ضرورت ہے کوئی مالِ غنیمت نہیں کہ حصہ دیا جائے، طلال چوہدری
صوبے بھر میں کل 34 ہزار 784 سرکاری اسکول موجود ہیں، مگر سالہا سال کی بدانتظامی، فنڈز کی خرد برد اور مجرمانہ غفلت کے باعث لاکھوں معصوم بچوں کی جانیں ہر وقت خطرے میں گھری رہتی ہیں۔
پی ٹی آئی کے اقتدار کے دوران پرائیویٹ اسکول ریگولیٹری اتھارٹی (PSRA) اور متعلقہ اداروں کو صرف اور صرف رشوت اور سیاسی سفارشات کے لیے استعمال کیا گیا۔
نجی اسکولوں کے حوالے سے پی ایس آر اے کی مجرمانہ لاپرواہی کا یہ عالم ہے کہ اتھارٹی کے پاس غیر رجسٹرڈ اسکولوں کا کوئی باقاعدہ ڈیٹا ہی موجود نہیں ہے اور محض کاغذی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز پشاور کے علاقے دیر کالونی میں رونما ہونے والا دل دہلا دینے والا واقعہ بھی اسی کرپشن کا شاخسانہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور سکول سانحہ، چھت گرنے کی تحقیقاتی رپورٹ سی سی پی او کو ارسال
جہاں پی ٹی آئی کے دور میں محض دو پیسے کی کرپشن اور سفارشی بنیادوں پر جاری کیے گئے جعلی این او سی کے نتیجے میں ایک پرائیویٹ اسکول کی بوسیدہ چھت زمین بوس ہو گئی اور 33 معصوم بچے اور خاتون اساتذہ شہید ہو گئے۔
چند ٹکے بٹورنے اور این او سیز کی بندر بانٹ نے درجنوں ماؤں کی گودیں ویران کر دیں، جس کی تمام تر اخلاقی و قانونی ذمہ داری تحریکِ انتشار اور اس کی سابقہ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
دوسری جانب نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر محکمہ ثانوی و اعلیٰ تعلیم جعفر منصور کا کہنا تھا کہ پی ٹی سی فنڈز سے اس وقت صرف ایک ہزار نئے کلاس رومز بنائے جا رہے ہیں۔
تاہم 37 ہزار کے قریب تباہ حال کلاس رومز کے مقابلے میں ایک ہزار کلاس رومز کا دعویٰ سمندر میں قطرے کے مترادف ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنے دور میں صوبے کے تعلیمی ڈھانچے کی بحالی کے لیے کوئی جاندار اقدام نہیں کیا بلکہ اسے کھنڈرات کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔





