محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا نے صوبے کے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی زبوں حالی سے متعلق ایک اہم رپورٹ مرتب کر کے مزید قانونی اور انتظامی کارروائی کے لیے محکمہ تعلیم کو ارسال کر دی ہے۔
سوشل میڈیا پر رپورٹ ہونے والی شکایات اورسروے کے بعد تیار کی گئی اس رپورٹ میں 11 اضلاع کے 20 سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی حالت کو شدید تشویش ناک اور طالب علموں کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔
محکمہ تعلیم کی رپورٹ میں بونیر، چارسدہ، دیر لوئر، کرک، لکی مروت، ملاکنڈ، مردان، شانگلہ، صوابی، ڈیرہ اسماعیل خان اور ہری پور کے مختلف اسکول شامل ہیں۔
رپورٹ میں ڈیرہ اسماعیل خان کے گورنمنٹ ہائی اسکول کچ کے تمام 10 اور گورنمنٹ ہائی اسکول ڈھکی کے تمام 15 کمروں کو مکمل طور پر ناقابلِ استعمال قرار دیا گیا ہے۔
اسی طرح چارسدہ کے جی جی پی ایس ہری چند کے تمام 8 کمرے اور جی جی پی ایس نصرت زئی کے 4 میں سے 3 کمرے خستہ حال ہیں، جبکہ گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول شاہ افضل آباد کے 8 میں سے 4 کمرے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
دیگر اضلاع کی تفصیلات کے مطابق ضلع دیر لوئر کے تین اسکولوں گورنمنٹ پرائمری اسکول شربانال، کمبٹ نمبر ایک اور بدین کی عمارتیں خطرناک جبکہ کرک کے گورنمنٹ پرائمری اسکول بامی بانڈہ کی عمارت شدید خستہ حال ہو چکی ہے۔
ہری پور کے بھی تین اسکولوں گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول سکندر پور، کھوہالہ اور غازی کھالو کی عمارتیں بھی غیر محفوظ قرار دی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ بونیر کے گورنمنٹ پرائمری اسکول بدال کے 6 میں سے 4 اور مردان کے گورنمنٹ ہائی اسکول تھوڑھیر کے 11 میں سے 2 اور پرائمری اسکول سفید آباد کے 3 میں سے 2 کمرے ناقابلِ استعمال ہو چکے ہیں۔
محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے بچوں اور اساتذہ کی جانی حفاظت کے پیشِ نظر تمام متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور ڈائریکٹوریٹ کو فوری متبادل تدریسی اقدامات کی ہدایت جاری کی ہے۔ ہدایت نامے کے مطابق ہری پور کے طلبہ کو قریبی اسکولوں اور ملاکنڈ کے جی پی ایس میشتہ کے بچوں کو دوسری شفٹ میں جی جی پی ایس میشتہ میں منتقل کیا جائے گا۔
بونیر کے متاثرہ اسکول اور دیگر مقامات کے لیے نئی عمارتوں کی تعمیر تک عارضی طور پر کرائے کی عمارتیں حاصل کرنے اور ان خستہ حال عمارتوں کو ترجیحی بنیادوں پر تعمیر نو کے ترقیاتی منصوبوں میں شامل کرنے کے احکامات بھی دیے گئے ہیں۔





