مولانا فضل الرحمان سب جانتے تھے؟ رانا ثنا اللہ کے بیان نے تہلکہ مچا دیا!

حکومت کا مولانا سے رابطہ بھی، پی ٹی آئی کے تحفظات بھی، مگر فیصلوں پر مشاورت کتنی ہوئی؟ رانا ثنا اللہ کے دعووں نے نئی بحث چھیڑ دی

مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے مولانا فضل الرحمان سے متعلق اہم انکشافات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے انہیں مذاکرات کی ناکامی اور آئندہ حکومتی اقدامات سے آگاہ کر دیا تھا، تاہم ان کے بقول مولانا نے نہ اس موقع پر ناراضی کا اظہار کیا اور نہ ہی حکومتی اقدام کی مخالفت کی۔

رانا ثنا اللہ کے مطابق مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں ان کے ہمراہ سردار ایاز صادق اور طارق فضل چوہدری بھی موجود تھے، جبکہ حکومتی وفد سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کا وفد بھی مولانا سے ملاقات کر چکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات میں تفصیلی گفتگو ہوئی اور انہیں پی ٹی آئی سے متعلق حکومتی تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔

رانا ثنا اللہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ مولانا فضل الرحمان اتنے لاعلم نہیں تھے کہ انہیں معلوم نہ ہو کہ حکومت کیا کرنے جا رہی ہے۔ ان کے مطابق مولانا کو پتا تھا کہ مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں اور حکومت اگلا قدم اٹھانے جا رہی ہے۔

یہاں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمان کو حکومتی حکمت عملی اور مذاکرات کی ناکامی کا پہلے سے علم تھا تو بعد کی سیاسی صورتِ حال میں ان کے مؤقف کی وضاحت کیوں ضروری محسوس ہو رہی ہے؟ کیا معاملہ محض سیاسی اختلاف کا ہے یا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں کی نوعیت پر بھی سوالات موجود ہیں

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کسی قسم کی ناراضی کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی وزیراعظم نے انہیں کوئی پیش کش کی۔ ان کے مطابق حکومت کا مؤقف شروع سے واضح تھا کہ متعلقہ کونسل میں پیشہ ورانہ اور تکنیکی مہارت رکھنے والے افراد کو شامل کیا جائے گا، نہ کہ کسی سیاسی قوت کو خوش کرنے کے لیے کوئی پیش کش کی جائے گی۔

تاہم رانا ثنا اللہ کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی پیدا کر دیا ہے کہ جب حکومتی فیصلوں سے متعلق اتنی تفصیلی گفتگو ہو چکی تھی تو پھر سیاسی اختلافات اور مشاورت کے معاملے پر اب وضاحتوں کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟

سیاسی رابطے اپنی جگہ، مگر اصل سوال مؤقف کا ہے

رانا ثنا اللہ کے بیان کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو حکومتی اقدامات سے لاعلم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن محض ملاقات، بریفنگ یا خاموشی کو کسی فیصلے کی مکمل حمایت قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان کا اپنا مؤقف سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ وہ حکومتی فیصلوں سے کس حد تک متفق تھے اور کن معاملات پر انہیں اختلاف تھا۔

فی الحال رانا ثنا اللہ کے دعووں نے حکومت اور اپوزیشن کے رابطوں، مذاکرات کی ناکامی اور سیاسی مشاورت کی نوعیت پر نئی بحث ضرور چھیڑ دی ہے۔

Scroll to Top