پشاور: مشیر اطلاعات ایڈمنسٹریٹو اینڈ ریلیو کونسل (اے آر ڈی سی) محمود جان بابر نے انکشاف کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع دہشت گردی سے شدید متاثر ہیں، جہاں کا نوجوان بے روزگاری کے باعث گمراہی کے راستے پر گامزن ہو رہا ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےمشیر اطلاعات اے آر ڈی سی محمود جان بابر نے کہا کہ اگر وقت پر نوجوانوں کو روزگار دیا گیا ہوتا تو وہ دہشت گردوں کے ساتھ جانے پر مجبور نہ ہوتے، یہی وجہ ہے کہ ان 12 اضلاع میں گورننس کو بہتر بنانا اور ترقیاتی کاموں کے ذریعے روزگار فراہم کرنا حکومت کی پہلی ترجیح ہے اور خود وزیراعظم ان اضلاع کا انتظامی کنٹرول سنبھال کر بطور انچارج منسٹر معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔
سینئر صحافی و تجزیہ کار محمود جان بابر نے بتایا کہ وزیراعظم کا واضح وژن ہے کہ ان متاثرہ اضلاع میں ہر صورت روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے روکا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : فضل الرحمان خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کو معدنی وسائل پر قبضے سے نہ جوڑیں:ڈاکٹر طارق فضل چوہدری
ان اضلاع کے لیے قائم کردہ کونسل کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کونسل میں 48 ایسے اہم عمائدین شامل ہیں جن کے گھر کے افراد دہشت گردی میں شہید ہوئے ہیں اور یہ تمام افراد اپنے اپنے قبیلوں کے سربراہ و سردار ہیں، جس سے مقامی سطحی مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے محرومیوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ تیراہ کا علاقہ پشاور سے 50 سال پیچھے ہے جہاں ابھی تک ایک بھی اسکول قائم نہیں ہو سکا ہے، یہی سبب ہے کہ جب نوجوانوں کو 15 سے 30 ہزار روپے ماہانہ کی پیشکش ہوتی ہے تو وہ مجبوراً بندوق اٹھا لیتے ہیں۔
مشیر اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے تمام وسائل متاثرہ علاقوں میں لگانے کا عزم ظاہر کیا ہے کیونکہ صورتحال یہ ہے کہ ایک ضلع میں 800 دہشت گرد مارے جانے کے باوجود وہاں اب بھی دہشت گرد موجود ہیں، جس کی بنیادی وجہ بدحالی کے باعث دہشت گردوں کو نئے افراد کا آسان متبادل (ری پلیسمنٹ) مل جانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سابق کپتان محمد رضوان کے مداحوں کے لیے بڑی خوشخبری
انہوں نے بتایا کہ اب این ایف سی کے پیسے ان اضلاع کے لیے الگ کر دیے جائیں گے اور وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز کا کوئی مسئلہ پیش نہیں آئے گا، کیونکہ اگر اس علاقے کو اب بھی نہ بنایا گیا تو عوام کو جواب دینا مشکل ہو جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جہاں جہاں ترقیاتی کام شروع ہو رہے ہیں وہاں نوجوان مثبت سرگرمیوں میں مصروف ہو رہے ہیں، جبکہ فورسز کے آپریشنز کے نتیجے میں دہشت گردوں کا کامیابی سے صفایا کیا جا رہا ہے۔





