فضل الرحمان کی چیخیں آئین کے لیے نہیں، بلکہ اپنی بند ہوتی سیاسی دکانداری کے لیے ہیں،عوام کا سخت ردعمل

پشاور : خیبر پختونخوا میں حالیہ سیاسی و انتظامی تبدیلیوں، گورنر راج جیسے اقدامات اور پاک فوج کے خلاف دیے جانے والے بیانات پر  خیبر پختونخوا عوام  کا شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔

 شہریوں نے مولانا کا نام لیے بغیر فضل الرحمان کی سیاست، ان کے حالیہ رویے اور پاک فوج سمیت شہداء کے خلاف بیانات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

وزارت نہ ملے تو تنقید شروع: فضل الرحمان کے دوہرے معیار کا انکشاف

پختونخوا عوام کا کہنا ہے کہ فضل الرحمان کا یہ پرانا سیاسی طریقہ کار رہا ہے کہ جب بھی وہ اقتدار يا حکومت کا حصہ نہیں ہوتے تو وہ شدید تنقید شروع کر دیتے ہیں۔

عمران خان دور: جب وہ اقتدار سے باہر تھے اور پی ڈی ایم کے سربراہ تھے تو حکومت پر شدومد سے حملے کیے گئے۔

پی ڈی ایم دور: جب انہیں چار وزارتیں ملیں تو پورا نظام اور حکومت ان کی نظر میں بالکل درست تھی۔

یہ بھی پڑھیں : سانحہ پشاور کے بعد اسکولوں کی سیکیورٹی اور عمارتوں کا جائزہ لینے کا فیصلہ

موجودہ صورتِ حال: اب چونکہ وہ حکومت میں حصہ دار نہیں ہیں اور خیبر پختونخوا کی گورنرشپ کی ان کی چاہت پوری نہیں ہو سکی، اس لیے وہ ان اقدامات اور اداروں پر ناراضی ظاہر کر رہے ہیں۔

شہداء اور پاک فوج کے خلاف گفتگو پر سخت ناگواری

گفتگو میں اس بات پر شدید تشویش ظاہر کی گئی کہ اپنے سیاسی مفادات اور جائیدادیں بنانے والے سیاسی رہنماؤں کو پاک فوج اور شہداء کی لازوال قربانیوں پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔

 عوام کے مطابق پاک فوج ملک و قوم کی بقا کی ضامن ہے جو ہر مشکل وقت میں پہلے بھی قربانیاں دیتی آئی ہے اور اب بھی دے رہی ہے۔

 فضل الرحمان کے والد کے تاریخی بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ ان کا یہ اندازِ فکر نیا نہیں ہے۔

آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدام: عوام کے لیے ریلیف؟

صوبے کے حالات، بدامنی، کرپشن اور انتظامی ناکامی کے بعد آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت کیے گئے اقدامات کو وقت کی ضرورت قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آج بارش ہوگی یا موسم خشک رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا

آٹے کے بحران کا خاتمہ: شہریوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے قبل آٹے کی قیمتیں 2700 سے 3500 روپے تک پہنچ چکی تھیں، تاہم انتظامی تبدیلیوں کے فوراً بعد پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان تفریق ختم ہوئی اور آٹے کی فراہمی معمول پر آ گئی۔

کارکردگی کے لیے وقت دینے کا مطالبہ: مخالف سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ صرف سیاسی فائدے یا حصص نہ ملنے کا رونا دھونے کے بجائے پارلیمان میں بیٹھیں اور نئے قائم ہونے والے انتظامی سیٹ اپ اور مشیران کو کم از کم دو سے تین ماہ کام کرنے دیں، اور کام نہ ہونے کی صورت میں ہی احتجاج کا راستہ اختیار کریں۔

Scroll to Top