شیراز احمد شیرازی
اسلام آباد:پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قومی اسمبلی رکن (ایم این اے) غزالہ انجم نے خیبر پختونخوا کی سابقہ حکومت اور معدنیات مافیا پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 13 سالوں سے ایک انتشاری ٹولہ خیبر پختونخوا پر مسلط رہا، جس نے نہ صرف پورے صوبے کو یرغمال بنائے رکھا بلکہ یہاں کے قدرتی وسائل اور قیمتی معدنیات پر بھی ناجائز قبضہ جمائے رکھا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ ٹولہ اور معدنیات مافیا غیر قانونی طریقوں سے معدنیات کی تلاشی و تنصیب کے نام پر اندھا دھند لوٹ مار اور بے تحاشا کرپشن میں ملوث رہے، جس سے صوبے کو اربوں روپے کا معاشی نقصان پہنچایا گیا۔
غزالہ انجم نے ملک میں قدرتی وسائل بالخصوص معدنیات کے گرد گھومتی سیاست پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں سال سے زمین کے اندر دفن معدنیات اگر عوام کی خوشحالی اور ملک کی ترقی کے کام نہ آ سکیں تو ان پر سیاست چمکانے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ 13 سالہ سیاسی ڈرامے بازی کے باوجود نہ عام آدمی کا معیارِ زندگی بدلا، نہ علاقے میں کوئی واقعی ترقیاتی کام ہوا اور نہ ہی ملک کو کوئی خاطر خواہ فائدہ پہنچا؛ ایسی انتشار اور لوٹ مار کی سیاست کا خمیازہ صرف اور صرف غریب عوام بھگت رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : جو اپنی مٹی کی حفاظت نہ کر سکے وہ رہنما نہیں بزدل تھے، بلاول بھٹو کی سہیل آفریدی پر کڑی تنقید
مسلم لیگ (ن) کی رہنما نے معدنی وسائل کو اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے والی مافیا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ معدنیات پر سیاست اور ناجائز قبضہ کرنے والے خود تو تمام آسائشوں، لگژری گاڑیوں اور شاندار محلات میں پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں۔
جبکہ دوسری جانب کے پی کے غریب عوام بنیادی سہولیات، امن اور روزگار سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو اب یہ سوال خود سے اور ان کرپٹ حکمرانوں سے پوچھنا ہوگا کہ آخر کب تک وہ ان بیش بہا وسائل کی موجودگی کے باوجود غربت، ناداری اور محرومی کا طوق اپنے گلے میں سجائے رکھیں گے۔
انہوں نے عوام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب وہ وقت آ گیا ہے جب عوام کو اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے حتمی فیصلہ کرنا ہوگا۔
یا تو معدنی وسائل کو اس مافیا کے چنگل سے آزاد کرا کر شفاف اور جدید طریقے سے بروئے کار لایا جائے تاکہ علاقے کی واقعی ترقی، روزگار کی فراہمی اور معاشی خوشحالی کی راہ ہموار ہو سکے، یا پھر اسی انتشاری ٹولے اور مافیا کے رحم و کرم پر رہ کر اپنی آنے والی نسلوں کو بھی ایک بہتر اور روشن زندگی سے محروم رکھا جائے۔





