ضلع خیبر : خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں نیو باڑہ پولیس اسٹیشن اور مقامی چوکی پر ہونے والے پے در پے دہشت گردانہ حملوں کی بھیانک اور اصل وجہ سامنے آ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ علاقہ سابق وزیراعلیٰ اور سیاسی رہنما سہیل آفریدی کا آبائی گڑھ ہے، جہاں گزشتہ طویل عرصے سے لا تعداد غیر قانونی افغان شہریوں کو مبینہ طور پر پناہ دی گئی تھی۔
اب اسی علاقے کو ریاست دشمن عناصر اور سیاسی روپوشوں کی جانب سے سیکیورٹی اداروں کے خلاف استعمال کیے جانے کے سنگین شواہد سامنے آ رہے ہیں۔
باڑہ شیخان میں جہازون گراؤنڈ کے قریب واقع سیکیورٹی چوکی اور تھانے پر ہونے والے حالیہ حملے کے پیچھے فتنہ الخوارج، پی ٹی آئی کی روپوش قیادت (بشمول شاہد خٹک اور عبدالغنی آفریدی) اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق روپوش رہنما ان غیر قانونی افغان باشندوں کو ریاستی اداروں، پولیس فورس اور امن و امان پر شب خون مارنے کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پھولوں کے شہر پشاور میں امن و امان کے پیش نظر پولیس سیکیورٹی ہائی الرٹ
تاہم پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے شیر دل جوانوں نے اس منظم سازش کا فوری اور دندان شکن جواب دیا ہے۔
بھاری ہتھیاروں سے کیے گئے اس حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے پولیس کے جوانوں نے زبردست جوابی فائرنگ کی، جس کے سامنے دہشت گردوں اور شرپسندوں کے حواس باختہ ہو گئے اور وہ بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ باڑہ کو نوگو زون بنانے یا سیاسی پناہ گاہوں کے ذریعے امن تباہ کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہونے دیا جائے گا۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا مکمل محاصرہ کر کے ناکہ بندیاں سخت کر دی ہیں اور غیر قانونی افغانیوں سمیت خوارج اور ان کے سیاسی سہولت کاروں کے خلاف حتمی و فیصلہ کن آپریٹو کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔





