تیرہ سالہ پی ٹی آئی دورِ حکومت میں سرکاری گندم بھی غیر محفوظ؟ اضاخیل ڈپو میں ریت کی آمیزش، گورنر انسپکشن ٹیم کے چھاپے نے بھانڈا پھوڑ دیا!

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے طویل دورِ اقتدار کے دوران سرکاری محکموں کی کارکردگی اور انتظامی نگرانی کے نظام پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ضلع نوشہرہ کے علاقے اضاخیل میں سرکاری گندم ڈپو سے متعلق گندم میں ریت کی آمیزش کی اطلاعات نے سرکاری ذخائر کے معیار، متعلقہ حکام کی کارکردگی اور عوامی وسائل کے تحفظ کے دعوؤں کو جانچ کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔

گورنر انسپکشن ٹیم کے اچانک چھاپے کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ سرکاری گندم کے معیار کی نگرانی کی ذمہ داری کس کی تھی اور اگر ذخیرے میں واقعی ملاوٹ موجود تھی تو متعلقہ محکمے اس کی نشاندہی کرنے میں کیوں ناکام رہے؟

اضاخیل گندم ڈپو میں سامنے آنے والی صورتِ حال محض گندم کے معیار کا معاملہ نہیں بلکہ سرکاری محکموں کی نگرانی، جواب دہی اور عوامی وسائل کے تحفظ کے نظام کا بھی امتحان ہے۔ عوام کی ضروریات کے لیے مختص گندم اگر مناسب جانچ پڑتال اور نگرانی کے بغیر ذخیرہ کی جا رہی تھی تو یہ متعلقہ انتظامی نظام کی کارکردگی پر ایک سنجیدہ سوال ہے۔ عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ سرکاری گندم کی خریداری سے لے کر ذخیرہ کرنے اور ترسیل تک معیار کی جانچ کے لیے کون سے اقدامات کیے گئے اور ان پر عمل درآمد کی نگرانی کس ادارے کے ذمے تھی۔

خیبر پختونخوا میں تقریباً 13 سالہ پی ٹی آئی دورِ اقتدار کے دوران سرکاری محکموں کی کارکردگی اور انتظامی معاملات پر ہونے والی تنقید کے تناظر میں اضاخیل ڈپو کا معاملہ بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اتنے طویل عرصے تک صوبے میں حکمرانی کے باوجود اگر سرکاری ذخائر کے معیار سے متعلق اس نوعیت کے سوالات سامنے آتے ہیں تو متعلقہ محکموں کی کارکردگی اور نگرانی کے طریقۂ کار کا جائزہ لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

گورنر انسپکشن ٹیم کے اچانک چھاپے کے بعد اب محض وضاحتوں کے بجائے حقائق سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ ڈپو میں موجود گندم کی مجموعی مقدار، معیار، ذخیرہ کرنے کے ریکارڈ اور ترسیل سے متعلق دستاویزات کی باریک بینی سے جانچ کی جائے۔ گندم کے نمونے مستند لیبارٹری بھجوائے جائیں تاکہ ریت کی آمیزش کی حقیقت واضح ہو سکے۔ اگر ملاوٹ کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ بھی معلوم کیا جائے کہ کتنا ذخیرہ متاثر ہوا، آیا ایسی گندم عوام یا دیگر اداروں کو فراہم کی گئی اور معیار کی جانچ کے ذمہ دار افسران نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں یا نہیں۔

یہ بھی اہم ہے کہ تحقیقات کا دائرہ صرف ڈپو میں موجود گندم تک محدود نہ رہے بلکہ خریداری، ترسیل، ذخیرہ اندوزی اور نگرانی کے پورے طریقۂ کار کا جائزہ لیا جائے۔ اگر ریکارڈ میں بے ضابطگی، غفلت یا کسی اہلکار کی جانب سے ذمہ داری پوری نہ کرنے کے شواہد ملتے ہیں تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ سرکاری وسائل عوام کی امانت ہیں اور ان کے معیار یا تحفظ میں کسی بھی کوتاہی پر جواب دہی ضروری ہے۔

گورنر انسپکشن ٹیم کی کارروائی نے کم از کم یہ سوال ضرور نمایاں کر دیا ہے کہ سرکاری محکموں کی نگرانی کس حد تک مؤثر ہے اور عوامی وسائل کے تحفظ کے لیے موجود نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تحقیقات میں اضاخیل گندم ڈپو کے حوالے سے کیا حقائق سامنے آتے ہیں اور آیا اس معاملے کے ساتھ کسی دوسری بے ضابطگی کی بھی نشاندہی ہوتی ہے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : سوئی ناردرن کا پشاور میں گیس کی بندش سے متعلق بڑا اعلان

خیبر پختونخوا میں سابقہ حکومت کی انتظامی کارکردگی کا جائزہ سیاسی دعوؤں کے بجائے عملی نتائج، سرکاری ریکارڈ اور جواب دہی کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔ اضاخیل گندم ڈپو کا معاملہ بھی اسی شفافیت اور احتساب کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر سرکاری گندم میں ریت کی آمیزش ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کا تعین کرکے کارروائی کرنا اور مستقبل میں ایسی صورتِ حال کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ضروری ہوگا، تاکہ عوام کو معیاری گندم فراہم کی جا سکے اور سرکاری ذخائر کے تحفظ پر اعتماد بحال ہو۔

Scroll to Top