خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے علاقے اضاخیل میں سرکاری گندم ڈپو کی صورتِ حال نے صوبے میں گندم کی فراہمی، سرکاری ذخائر کے تحفظ اور سابقہ پی ٹی آئی حکومت کے انتظامی نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ گورنر انسپکشن ٹیم کے اچانک چھاپے کے دوران گندم میں ریت کی آمیزش کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد اب یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ سرکاری گندم کے ذخائر کی نگرانی کیسے کی جاتی رہی اور متعلقہ حکام نے اپنے فرائض کس حد تک انجام دیے۔
پاکستان تحریک انصاف کے خیبر پختونخوا میں طویل دورِ اقتدار کے دوران پنجاب سے گندم کی فراہمی کا معاملہ بھی سیاسی بحث کا حصہ رہا۔ صوبے میں گندم کی مبینہ کمی اور پنجاب سے مطلوبہ مقدار میں گندم نہ ملنے کے حوالے سے تحفظات سامنے آتے رہے، تاہم اضاخیل گودام سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نے سرکاری گندم کی خریداری، وصولی، ذخیرہ اندوزی اور تقسیم کے پورے نظام کی جانچ پڑتال کی ضرورت اجاگر کر دی ہے۔
اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر صوبے کو گندم کی کمی کا سامنا تھا تو سرکاری گوداموں میں موجود ذخائر کا مکمل حساب کہاں ہے؟ گندم کی وصولی اور تقسیم کے ریکارڈ کا موازنہ کیے بغیر اس بات کا تعین ممکن نہیں کہ سرکاری ذخائر میں کوئی بے ضابطگی ہوئی یا نہیں۔ گورنر انسپکشن ٹیم کی کارروائی کے بعد ضروری ہے کہ متعلقہ محکمے گندم کی آمد، اخراج، موجودہ مقدار اور معیار کا ریکارڈ عوام کے سامنے لائیں۔
گندم کی افغانستان اسمگلنگ اور اس کی جگہ سرکاری ریکارڈ میں مٹی یا ریت سے بھری بوریاں رکھنے کے الزامات بھی انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں۔ تاہم ان الزامات کی تصدیق کے لیے گوداموں کے اسٹاک رجسٹر، ترسیلی دستاویزات، وزن کے ریکارڈ، خریداری کے اعداد و شمار اور سرحدی نقل و حمل سے متعلق شواہد کی جانچ ضروری ہے۔ اضاخیل گودام میں ریت یا مٹی کی موجودگی کی اطلاعات بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ گندم افغانستان اسمگل کی گئی یا اس کی جگہ جان بوجھ کر مٹی بھری گئی۔
اس کے باوجود یہ معاملہ سابقہ پی ٹی آئی حکومت کے دور میں سرکاری محکموں کی نگرانی اور جواب دہی کا جائزہ لینے کے لیے اہم ہے۔ تقریباً 13 سالہ اقتدار کے دوران صوبائی حکومتوں اور متعلقہ محکموں پر لازم تھا کہ وہ عوامی وسائل کی حفاظت، گندم کے ذخائر کا درست حساب اور تقسیم کے نظام میں شفافیت یقینی بناتے۔ اگر تحقیقات میں ذخائر کی خرد برد، ریکارڈ میں جعل سازی یا سرکاری اہلکاروں کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔
گورنر انسپکشن ٹیم کے اچانک چھاپے کے بعد اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اضاخیل گودام کی مکمل انکوائری کرائی جائے، موجودہ ذخائر کا باقاعدہ آڈٹ کیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ ریکارڈ میں درج گندم اور موقع پر
موجود ذخیرے میں کوئی فرق تو نہیں۔ اگر گندم کی مقدار میں کمی یا ریکارڈ میں جعل سازی سامنے آتی ہے تو اس کی وجوہات اور ذمہ داروں کو بھی واضح کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی نے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، احسن اقبال تحریک انصاف پر برس پڑے
صوبے کے عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ گندم کی فراہمی کے معاملے پر بار بار پیدا ہونے والے تنازعات کے باوجود سرکاری ذخائر کی نگرانی کا نظام کتنا مؤثر رہا۔ اضاخیل گودام سے متعلق اطلاعات کو محض ایک مقامی واقعہ سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے تمام متعلقہ ریکارڈ کی جانچ ضروری ہے، تاکہ سابقہ حکومتی دور کی انتظامی کارکردگی کا جائزہ حقائق کی بنیاد پر لیا جا سکے اور سرکاری وسائل کے تحفظ کے لیے جواب دہی یقینی بنائی جا سکے۔





