سرکاری محکموں میں احتساب کی نئی لہر: صوابی میں ایڈیشنل و اسسٹنٹ کمشنرز کا ہنگامی اجلاس، سروس ڈیلیوری تیز کرنے کا حکم!

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی و ضلعی انتظامی مشینری کو متحرک کرنے اور شفافیت کے قیام کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ سابقہ 13 سالہ حکمرانی میں ضلعی امور میں حائل رکاوٹوں، عوامی شکایات کی عدم توجہی اور انتظامی سستی کے خاتمے کے لیے بالآخر بڑی پیشرفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔

اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر صوابی نصراللہ خان کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی ڈسٹرکٹ پرفارمنس اور ریویو اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر کے تمام ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنرز نے شرکت کی۔

اجلاس میں ضلع کے تمام انتظامی امور، ریونیو کی وصولی کے اہداف، عوامی سروس ڈیلیوری اور حکومتی ہدایات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر صوابی نے تمام افسران کو دوٹوک ہدایت کی کہ ریونیو اہداف کا حصول اور عوامی مسائل کا بروقت حل یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر راج کے تحت اب کسی قسم کی غفلت یا عدم شفافیت برداشت نہیں کی جائے گی۔

افسران کو ہدایت کی گئی کہ وہ عوامی مفاد کو اولین ترجیح دیتے ہوئے شکایات کے ازالے، محکموں کے باہمی رابطے اور سروس ڈیلیوری کو مؤثر بنائیں تاکہ عوام کو برسوں سے زیرِ التواء سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں : سابق دور کی کالی بھیڑیں اور رشوت خور تیار ہو جائیں: پی ٹی آئی دور کا کرپٹ کلچر ختم! صوابی انتظامیہ کا واٹس ایپ نمبر کے ساتھ بڑا سرپرائز!

سیاسی و عوامی حلقوں کے مطابق جہاں پی ٹی آئی کے 13 سالہ دورِ اقتدار میں ضلعی انتظامیہ سیاسی دباؤ اور ناقص حکمتِ عملی کے باعث غیر فعال دکھائی دیتی تھی وہاں گورنر راج کے تحت اب گورننس اور ریونیو کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کا آغاز ہو چکا ہے جس سے عام شہریوں کو بلا تاخیر ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

Scroll to Top