مذہبی کارڈ استعمال کرنے کا ہتھکنڈا اب نہیں چلے گا، فضل الرحمٰن اور ان کے بیٹوں کے خلاف بلا امتیاز احتساب کا مطالبہ

 کرک:  خیبرپختونخوا کے ضلع کرک کے شہریوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمٰن اور ان کے صاحبزادوں کے خلاف مالی بے قاعدگیوں، کرپشن اور غیر قانونی اثاثوں پر سخت ترین قانونی کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں فضل الرحمٰن کا اثرورسوخ ہمیشہ قائم رہا، جبکہ مدارس اور زمینوں کے ذریعے لاکھوں روپے کے فنڈز ان کی اور ان کے خاندان کی جیبوں میں جاتے رہے۔

 تاہم جیسے ہی ان مالی معاملات میں اربوں روپے کی خردبرد اور سنگین بے ضابطگیاں منظرِ عام پر آئیں، فضل الرحمٰن نے ریاستی اداروں اور ملک کے خلاف تضحیک آمیز رویہ اپنانا شروع کر دیا۔

کرک کے شہریوں کا کہنا ہے کہ فضل الرحمٰن کا اصل دکھ اور شدید بوکھلاہٹ یہ ہے کہ اب ان کی اور ان کے بیٹوں کی سالہا سال سے چھپی کرپشن پر سے پردہ چاک ہو رہا ہے۔

مذہب کے لبادے میں کرپشن چھپانے کی کوشش ناکام

شہریوں نے سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فضل الرحمٰن اور ان کے بیٹوں نے اپنے دورِ وزارت اور اقتدار کے دوران بے تحاشا مالی بدعنوانیاں کیں اور ہمیشہ اس پر مذہب اور سیاست کا لبادہ اوڑھ کر حقیقت کو عوام سے چھپائے رکھا۔

یہ بھی پڑھیں : پختونخوا تعلیم میں 92 کروڑ کا گھپلا، پی ٹی آئی کے سیاہ دورِ اقتدار کا ایک اور بڑا مالی اسکینڈل سامنے آ گیا

تاریخ میں پہلی بار فضل الرحمٰن اور ان کے خاندان کے اثر و رسوخ اور سیاسی دباؤ کو سائیڈ پر رکھ کر ان کی کرپشن پر بلا امتیاز ہاتھ ڈالا گیا ہے، جس کے بعد ان کی پریشانی اور حواس باختگی بالکل فطری ہے۔

زمینوں، مراعات اور غیر قانونی اثاثوں کی تفصیلات عام کرنے کا مطالبہ

کرک کے عوام نے حکومت اور ملک کے تمام احتسابی اداروں سے زوردار مطالبہ کیا ہے کہ فضل الرحمٰن اور ان کے بیٹوں نے بطور وفاقی وزیر اور سیاسی اثرورسوخ کے ذریعے جتنی بھی زمینیں، سرکاری مراعات، الاٹمنٹس اور غیر قانونی فوائد حاصل کیے ہیں، ان کا تمام ریکارڈ اور دستاویزات فی الفور قوم کے سامنے عام کی جائیں۔

بلا امتیاز محاسبہ اور ایک ایک روپے کا حساب

شہریوں نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ دین اور سیاست کا نام استعمال کر کے اپنے اور اپنے خاندان کے لیے اربوں کے اثاثے اور مال جمع کرنے والوں سے اب ایک ایک روپے کا شفاف حساب لیا جائے۔

 دہائیوں سے دین اور سیاست کو ذاتی و خاندانی مفادات کی ڈھال بنانے والوں کا اب مکمل اور بے لاگ محاسبہ ہونا چاہیے۔

کرک کے غیور شہریوں نے صاف کر دیا ہے کہ اب محض بیان بازی، جذباتی تقریروں یا مذہب کا کارڈ استعمال کر کے کرپشن پر پردہ ڈالنے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

Scroll to Top