پختونخوا تعلیم میں 92 کروڑ کا گھپلا، پی ٹی آئی کے سیاہ دورِ اقتدار کا ایک اور بڑا مالی اسکینڈل سامنے آ گیا

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے دور حکومت کے دوران صرف ایک سال کے اندر محکمہ تعلیم میں 92 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیاں اور کرپشن کی سنگین کہانیاں سامنے آئی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 13 سالہ اقتدار کے دوران جہاں تعلیم اور گورننس میں اصلاحات کے بلند بانگ دعوے کیے جاتے رہے، وہیں سامنے آنے والے آڈٹ رپورٹس حقائق ایک بالکل مختلف کہانی بیان کر رہے ہیں۔

سابق صوبائی وزیر تعلیم شہرام ترکئی کے دورِ وزارت میں صرف ایک سال کی مختصر مدت کے دوران محکمہ تعلیم کے اندر 92 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں اور غیر قانونی اقدامات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیمی بجٹ کا ایک بڑا حصہ شفافیت کے فقدان ، کرپشن اور لوٹ مار کی نذر ہو گیا۔

اساتذہ کے لیے ٹیبلٹ کی فراہمی میں کروڑوں کا اسکینڈل

محکمے کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کے ذریعے نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ کو ٹیبلٹ کی فراہمی کے منصو بے میں 37 کروڑ 43 لاکھ روپے کی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔

اس منصوبے کے تحت 15 ہزار افراد میں 42 کروڑ 47 لاکھ روپے کی لاگت سے ٹیبلٹ تقسیم کیے جانے تھے، تاہم معاملے کی چھان بین کے لیے تشکیل دی گئی سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ نے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران امریکہ کشیدگی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ ایران، عالمی برادری کی نظریں جم گئیں

سکروٹنی رپورٹ کے مطابق صرف 1 ہزار 779 ٹیبلٹس ہی ڈائریکٹوریٹ کو واپس مل سکے، جبکہ باقی 13 ہزار 221 ٹیبلٹس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا اور وہ غائب ہو چکے ہیں۔

مردان تعلیمی بورڈ میں کاغذ اور اسمارٹ فونز خریدنے کے نام پر خورد برد

رپورٹ کی شق 5.4.6 میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے آزاد نگرانی یونٹ کے منصوبے کے لیے خریدے گئے اسمارٹ فونز پر 12.301 ملین روپے، یعنی 1 کروڑ 23 لاکھ 1 ہزار روپے، کے نقصان کی نشان دہی کی گئی ہے۔

محکمے کے مسائل سے متعلق حصے میں اسٹیشنری کی فراہمی کے ٹھیکے دینے کے عمل میں خامیوں، تعلیمی بورڈز میں کاغذ کی نقول تیار کرنے کے لیے استعمال ہونے والے کاغذ کی مد میں مبینہ خوردبرد، بورڈ چیئرمینوں کو استحقاق کے بغیر ایگزیکٹو الاؤنس کی ادائیگی اور اثاثوں کے انتظام میں کمزوریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

منصوبے کے کارکردگی آڈٹ کے دوران معلوم ہوا کہ متعلقہ دفتر نے 08 مارچ 2014 کو ’ٹیلی نار پاکستان‘ سے 520 اسمارٹ فونز خریدے۔ ان کی ادائیگی 27 مارچ 2014 کو چیک نمبر 206751 کے ذریعے کی گئی۔

آڈٹ کے مطابق تقریباً 2 سال گزرنے کے بعد مقامی اطلاعاتی ٹیکنالوجی عملے نے ان فونز کو مقامی طور پر تیار کردہ نگرانی کی ایپلی کیشن سے سافٹ ویئر کی عدم مطابقت کے باعث متروک قرار دیا۔

فراہم کردہ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ فونز کے ناقابلِ استعمال ہونے کی اطلاع کب دی گئی، ذمہ داری کس پر عائد کی گئی یا نقصان کے ازالے کے لیے کیا کارروائی ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں : 13 سالہ پٹواری راج اور رشوت کے اڈے تہس نہس، بدعنوان مافیا کے لیے صوبے میں کوئی جگہ نہیں

مالی بے ضابطگیوں کا یہ سلسلہ صرف اسکولوں کے سامان تک محدود نہیں رہا بلکہ تعلیمی بورڈز کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔
سال 23-2022 کے دوران بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مردان میں کاغذ کی خریداری کی مد میں 4 کروڑ 87 لاکھ روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔

اسٹیشنری کے خریدار میں گھپلے

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی خیبرپختونخوا حکومت کے حسابات سے متعلق آڈٹ سال 25-2024 کی رپورٹ کے باب 5 میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم اور اس کے متعلقہ اداروں کے مالی معاملات پر متعدد اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔
مردان بورڈ کی اسٹیشنری خریداری پر 19 کروڑ 20 لاکھ روپے کا اعتراض

رپورٹ کے مطابق بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مردان کے مالی سال 23-2022کے حسابات کی جانچ میں سامنے آیا کہ امتحانات کے لیے اسٹیشنری کی خریداری پر 192 ملین روپے، یعنی 19 کروڑ 20 لاکھ روپے، خرچ کیے گئے۔

ٹینڈر دستاویزات اور ادائیگی کے واؤچرز کی چھان بین کے دوران آڈٹ نے پیشگی ادائیگی اور بولی کی ضمانت سے متعلق بے ضابطگیوں کی نشان دہی کی۔

مزید برآں سرکاری قواعد و ضوابط اور کھلے ٹینڈرنگ کے عمل کو پامال کرتے ہوئے منظور نظر فرم کو ٹھیکہ دینے کے باعث قومی خزانے کو 19 کروڑ 20 لاکھ روپے کا بھاری نقصان پہنچایا گیا۔

بولی کی ضمانت 50 لاکھ کے بجائے 10 لاکھ روپے مقرر کی گئی

آڈٹ نے اعتراض اٹھایا کہ ٹینڈر میں بولی کی ضمانت، یعنی کال ڈپازٹ رسید، کی رقم صرف 1 ملین روپے رکھی گئی، جبکہ رپورٹ کے مطابق بولی کی لاگت کے 2 فیصد کے حساب سے یہ رقم 5 ملین روپے ہونی چاہیے تھی۔

یوں آڈٹ کے بیان کردہ مطلوبہ ضمانتی مبلغ اور مقرر کردہ رقم میں 4 ملین روپے، یعنی 40 لاکھ روپے، کا فرق تھا۔ رپورٹ نے اسے خیبرپختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قاعدہ 12 کی خلاف ورزی اور پسندیدہ بولی دہندگان کو ناجائز فائدہ پہنچانے کا معاملہ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں : 50 لاکھ گھروں کے دعویداروں کی اپنی سیاست تاریخ کے ردی دان کی نذر ہو گئی

درج شدہ خریداری کے اخراجات 192 ملین روپے ہیں، جن کا 2 فیصد 3.840 ملین روپے بنتا ہے، جبکہ آڈٹ نے بولی کی لاگت کی بنیاد پر مطلوبہ ضمانت 5 ملین روپے لکھی ہے۔

ضمانتی رقم جمع ہونے سے پہلے بولی کھولنے کی اجازت نہیں تھی

رپورٹ میں محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کے 03 جنوری 2022 کے نوٹیفکیشن، حوالہ نمبر چیف/آئی این ایف/پی اینڈ ڈی/003-02/2022/01، کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

اس کے مطابق اہل اور دلچسپی رکھنے والے بولی دہندگان کے لیے ضروری تھا کہ وہ بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ سے 5 روز پہلے متعلقہ خریداری ادارے کے نام کال ڈپازٹ رسید جمع کرائیں۔

خریداری کرنے والے ادارے کو یہ یقینی بنانا تھا کہ صرف انہی بولی دہندگان کی بولیاں کھولی جائیں جن کی ضمانتی رقم بولیاں کھولنے سے پہلے اس کے سرکاری اکاؤنٹ میں منتقل ہو چکی ہو۔ رقم جمع نہ ہونے کی صورت میں بولی ناقابلِ قبول قرار دے کر مسترد کرنا لازم تھا۔

سامان کی فراہمی کے حکم نامے کی شق 3 کے مطابق فراہم کردہ اشیا کے تسلی بخش نتائج تک 10 فیصد رقم بطور ضمانت 3 ماہ کے لیے روکنا بھی مقرر تھا۔ البتہ فراہم کردہ رپورٹ میں اس مخصوص شرط کی خلاف ورزی کی الگ تفصیل درج نہیں۔

اسی دوران سمارٹ فونز کی خریداری کی مد میں بھی 1 کروڑ 30 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا، جبکہ بورڈ چیئرمین کی جانب سے غیر قانونی طور پر 71 لاکھ روپے کا ایگزیکٹیو الاؤنس وصول کرنے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے، جس کے وہ آئینی و قانونی طور پر مجاز نہیں تھے۔

بورڈ چیئرمینوں سے غیرمجاز ایگزیکٹو الاؤنس کی وصولی کا معاملہ

رپورٹ کی شق 5.4.3 میں مردان تعلیمی بورڈ کے چیئرمین رہنے والے 2 افسران کو ایگزیکٹو الاؤنس کی ادائیگی اور اس کی عدم وصولی پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے سیکشن افسر، بورڈز و تربیت، کے 30 دسمبر 2023 کے مراسلے، حوالہ نمبر ایس او، بی اینڈ ٹی/ای اینڈ ایس ای/10-1/آل بائز/کے پی/جلد دوم، کے مطابق چیئرمین کے عہدے کے لیے ایگزیکٹو الاؤنس قواعد کے تحت مجاز نہیں تھا، اس لیے افسران کو ادا کی گئی رقم واپس وصول کی جانی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : معدنیات پر صرف 3 دن تک من گھڑت کہانیاں بنائی گئیں، حقیقت عوام کے سامنے آ گئی

آڈٹ رپورٹ کے مطابق بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مردان میں اعلیٰ حکام کو غیر قانونی طور پر ایگزیکٹو الاؤنس کی مد میں کل 71 لاکھ 73 ہزار 465 روپے کی رقم ادا کی گئی۔

اس غیر متعلقہ ادائیگی میں سب سے بڑا حصہ سابق عہدیدار امتیاز ایوب کو منتقل ہوا، جنہوں نے دسمبر 2019 سے ستمبر 2022 کے درمیانی عرصے کے دوران ایگزیکٹو الاؤنس کے نام پر مجموعی طور پر 46 لاکھ 5 ہزار 990 روپے حاصل کیے۔

اسی تسلسل میں، فرید خٹک نے بھی اکتوبر 2022 سے دسمبر 2023 کی مدت کے دوران اسی الاؤنس کی مد میں 25 لاکھ 67 ہزار 475 روپے کی رقم وصول کی۔

محکمہ تعلیم کی ہدایات کے مطابق یہ دونوں ادائیگیاں ضوابط اور آئینی اختیارات کے منافی تھیں، جن کی فوری ریکوری کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

تعلیمی نظام پر اثرات

تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کی سنگین مالی بے ضابطگیوں کے واقعات کسی بھی صوبے کے مجموعی انتظامی نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔

جب تعلیمی بجٹ کو طلبہ کی فلاح، اسکولوں کی حالتِ زار سنوارنے اور جدید سہولیات کی فراہمی پر خرچ کرنے کے بجائے ناقص منصوبہ بندی اور من پسند افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کیا جائے، تو اس کے نتائج زوال پزیر تعلیمی معیار کی صورت میں نکلتے ہیں۔

سرکاری دفاتر سے ہزاروں ٹیبلٹس کا غائب ہونا اور ٹینڈرنگ کے طے شدہ قوانین کو نظر انداز کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ محکمے میں داخلی جانچ پڑتال (انٹرنل چیک اینڈ بیلنس) کا نظام مفلوج ہو چکا تھا، جس کے باعث صوبائی خزانے کو اربوں کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

Scroll to Top