خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مسلسل 13 سالہ دورِ اقتدار میں شعبہ تعلیم کو جس بے دردی سے تباہ کیا گیا، نجی اسکول مافیا کو لوٹ مار کا پروانہ تھمایا گیا اور سرکاری اسکولوں کو مانیٹرنگ کے نام پر ہراسانی کا مرکز بنایا گیا ان تمام مظالم اور نااہلیوں کے خاتمے کا وقت آ گیا ہے۔ موجودہ اصلاحاتی انتظامیہ نے صوبے کے تعلیمی نظام کو درپیش دیمک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے گرینڈ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔
اسی سلسلے میں ممبر ایڈوائزری کونسل برائے تعلیم ڈاکٹرعامرعبداللہ کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں خیبرپختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی اور ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کے انتظامی و مالی امور کا تفصیلی جراحی جائزہ لیا گیا۔
پی ٹی آئی حکومت کی مجرمانہ خاموشی کے باعث نجی تعلیمی ادارے غریب والدین کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتے رہے۔ نئی انتظامیہ نے اس بلیک میلنگ کو روکنے کے لیے واضح ہدایت جاری کی ہے کہ 6000 روپے تک فیس وصول کرنے والے تمام نجی اسکولوں کا ڈبل انٹری اکاؤنٹنگ سسٹم لازمی ہوگا تاکہ ان کی مالی دھاندلی اور غیر قانونی منافع خوری کو بے نقاب کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ نجی اسکولوں کی عمارات کی حفاظت، فائر سیفٹی اور بنیادی سہولیات کی دستیابی کا وقتاً فوقتاً سخت آڈٹ کروانا اتھارٹی کے بنیادی ترین فرائض میں شامل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ماضی کی حکومت نے پرائیویٹ اسکولز اتھارٹی میں اپنے من پسند افراد اور مافیا کو بٹھا رکھا تھا۔ ڈاکٹر عامر عبداللہ نے موجودہ قانون میں تاریخی ترمیم کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ اتھارٹی کے اراکین کے لیے والدین کے 10 موزوں نمائندوں کا پینل شامل کیا جائے گا جس میں سے ہر ریجن کے 3 مجوزہ ناموں میں سے متعلقہ وزیر، مشیر یا معاون خصوصی ایک غیر جانبدار رکن نامزد کرے گا۔
یہی نہیں بلکہ نجی اسکولوں کے خلاف حاصل ہونے والی زیرِ التوا اور غیر حل شدہ شکایات کی مکمل درجہ بندی (Categorization) کی رپورٹ سیکریٹری تعلیم کو پیش کرنے کی کڑی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
اجلاس میں سرکاری اسکولوں کی مانیٹرنگ کے لیے قائم ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کی ماضی کی بدانتظامی کا بھی پول کھول دیا گیا۔ ایڈوائزری کونسل نے ہدایت کی کہ خالی اسامیوں کو پر کرنے کے لیے فوری طور پر محکمہ خزانہ سے رجوع کیا جائے اور مانیٹرنگ ٹیموں سے دیگر شعبوں میں لیے جانے والے غیر متعلقہ کاموں کا خاتمہ کیا جائے۔
کونسل نے گزشتہ ایک سال کے دوران اسکولوں کے دوروں کی روشنی میں تعلیمی نظام میں موجود بنیادی نقائص، اساتذہ و طلبہ کے داخلوں اور ڈھانچے سے متعلق ایک گہری روٹ کاز رپورٹ پیش کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
نئی انتظامیہ نے اصلاحات کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے انجینئرنگ یونیورسٹی کے ماہرین کی تیار کردہ جدید ترین ایپ کے استعمال اور ایجوکیشن مینجمنٹ سسٹم کے تازہ ترین ڈیٹا سے مستند معلومات حاصل کرنے کی سفارش کی ہے۔ اپلیٹ ٹربیونل میں پائیداری لانے کے لیے اراکین کا دورانیہ 2 سال مقرر کرنے اور عملے کو ایڈوانس کمپیوٹر و تکنیکی تربیت دینے کا بھی حتمی حکم دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کا 13 سالہ تعلیمی فریب بے نقاب! ڈاکٹر عامر عبداللہ کا بڑا سرجیکل اسٹرائیک، والدین کو بااختیار بنانے اور ہنگامی آڈٹ کا حتمی اعلان!
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے 13 سالہ سیاہ دور میں تعلیمی اصلاحات محض میڈیا اور سوشل میڈیا کے کھوکھلے دعوؤں تک محدود تھیں جبکہ عملی طور پر تعلیمی ڈھانچہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا تھا۔ موجودہ انتظامیہ کے ان انقلابی فیصلوں سے نہ صرف نجی مافیا کی من مانیاں ختم ہوں گی بلکہ غریب عوام کو معیاری و شفاف تعلیمی نظام کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔





