خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مسلسل 13 سالہ اقتدار کے دوران جہاں دیگر شعبے تباہی کا شکار رہے وہیں توانائی و برقیات کے شعبے کو بھی محض نمائشی اعلانات اور کاغذوں تک محدود رکھا گیا۔ پی ٹی آئی کے دور میں کھربوں روپے کے ڈیمز اور ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کے دعوے تو کیے گئے، لیکن عملًا صوبے کے عوام کو اندھیروں اور بحرانوں کے سپرد کر دیا گیا۔ اس مجرمانہ غفلت کے خاتمے کے لیے موجودہ اصلاحاتی انتظامیہ نے توانائی کے شعبے کا گرینڈ آڈٹ اور جائزہ شروع کر دیا ہے۔
اسی سلسلے میں ممبر ایڈوائزری کونسل برائے توانائی و برقیات عثمان سیف اللہ خان کو محکمہ توانائی و برقیات کے جاری و مجوزہ منصوبوں پر ایک انتہائی اہم اور تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں پیڈو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انوار الحق اور ورلڈ بینک پراجیکٹس کے ڈائریکٹر سید آصف کمال نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران سی ای او پیڈو نے اعتراف کیا کہ پی ٹی آئی حکومت کے دور سے لٹکے ہوئے متعدد اہم ہائیڈرو پاور پراجیکٹس، بشمول بالاکوٹ، گورکن مٹلتان، لاوی، گبرال کلام، مادیان، مجاہدین، چپری چرکیل اور رنولیا کی بحالی کے کام تاحال زیرِ تعمیر اور تاخیر کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ بٹاکنڈی ناران، گہرت سویر لشٹ، گوربند، استرہ بونی، اور کالکوٹ جیسے اہم ترین سائٹس کے منصوبے صرف فائلوں تک محدود رہے۔
بریفنگ میں انکشاف ہوا کہ پی ٹی آئی دور میں 2015 سے شروع کیے گئے سولرائزیشن اور مائیکرو ہائیڈرو پاور کے منصوبوں کی رفتار انتہائی سست رہی۔ ضم شدہ اضلاع (سابقہ فاٹا) کے غریب عوام کو سولر منی گرڈز اور مساجد، اسکولوں و ہسپتالوں کی سولرائزیشن کے نام پر صرف لالی پاپ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں افسران کی تقرریاں و تبادلے، نوٹیفکیشن جاری
نئی انتظامیہ نے ماضی کی نااہلی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح احکامات جاری کر دیے ہیں۔ ممبر ایڈوائزری کونسل عثمان سیف اللہ خان نے تمام متعلقہ حکام کو کڑی ہدایت کی کہ پی ٹی آئی دور کے تمام تاخیر شدہ زیرِ تعمیر ہائیڈرو پاور منصوبوں کی رفتار میں فوری طور پر غیر معمولی تیزی لائی جائے اور نئے مجوزہ منصوبوں کی فزیبلٹی اسٹڈیز کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔
انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ صوبے کے عوام کو پائیدار اور سستی سبز توانائی کی فراہمی میں مزید کسی قسم کی سستی یا بہانہ سازی برداشت نہیں کی جائے گی۔





