10 کروڑ روپے تک قرض حاصل کریں، وہ بھی بلاسود

لاہور: صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین کا صنعتی شعبے کے فروغ کے لیے اہم اعلان، سمال انڈسٹریل اسٹیٹس میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری تیز کرنے کی ہدایت کردی گئی۔

صوبائی وزیر صنعت و تجارت پنجاب چوہدری شافع حسین نے رواں سال 300 ارب روپے کا بڑا کاروباری فنانسنگ پروگرام شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پروگرام کے تحت کاروباری افراد کو 10 کروڑ روپے تک بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا، جبکہ زیادہ مالیت کے قرضوں پر مقررہ شرح کے مطابق مارک اپ وصول کیا جائے گا۔

اس حوالے سے پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اہم اجلاس صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین کی زیر صدارت پیسک ہاؤس، ڈیوس روڈ لاہور میں منعقد ہوا۔

 اجلاس میں ایک نکاتی ایجنڈے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور صوبے میں صنعتی سرگرمیوں کے فروغ، کاروباری سہولتوں کی فراہمی اور صنعتی انفراسٹرکچر کی بہتری سے متعلق اہم امور پر غور کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت گر گئی، چاندی کے نرخوں میں بھی کمی ریکارڈ

اجلاس کے دوران ملازمین کی پنشن سے متعلق فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ اس موقع پر چوہدری شافع حسین نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر نے پنجاب میں قائم 24 سمال انڈسٹریل اسٹیٹس میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے کاموں کو تیز کرنے کی بھی ہدایت کی، تاکہ صنعت کاروں کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ صنعتی سرگرمیوں کو مزید وسعت دی جا سکے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ منڈی بہاؤالدین میں پہلی سمال انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کر دی گئی ہے۔ اس صنعتی اسٹیٹ میں پلاٹوں کے حصول کے لیے درخواستوں کا عمل مکمل طور پر آن لائن ہوگا، جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے پلاٹوں میں 20 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔

چوہدری شافع حسین نے وزیراعلیٰ آسان کاروبار فنانس اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت کاروباری افراد کو بلاسود قرضوں کی فراہمی جاری ہے۔ ان کے مطابق 300 ارب روپے کے مجوزہ پروگرام میں قرضوں کی مالیت کے لحاظ سے مختلف شرحیں مقرر کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : نامزد اضلاع کے لیے نیا انتظامی ڈھانچہ تشکیل، پانچ سیکرٹریز تعینات

اعلان کردہ تفصیلات کے مطابق 10 کروڑ روپے تک کے قرضے بلاسود فراہم کیے جائیں گے، جبکہ 10 کروڑ سے ایک ارب روپے تک کے قرضوں پر 3 فیصد اور ایک ارب سے 5 ارب روپے تک کے قرضوں پر 5 فیصد مارک اپ لاگو ہوگا۔

صوبائی وزیر صنعت و تجارت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد کاروباری طبقے کو مالی سہولتیں فراہم کرنا، صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا اور پنجاب میں صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔

اجلاس میں صنعتی ترقی، کاروباری فنانسنگ اور سمال انڈسٹریل اسٹیٹس میں سہولتوں کی بہتری سے متعلق امور کا جائزہ لیتے ہوئے صوبے میں صنعتی شعبے کو مزید فعال بنانے پر توجہ دی گئی۔

Scroll to Top