چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا سخت انتباہ، کاہل افسران کی صوبے سے چھٹی طے!

خیبر پختونخوا کی بیوروکریسی میں طویل عرصے سے پنجے گاڑے کاہلی، تاخیر، کرپشن اور نااہلی کے کلچر پر نئے چیف سیکرٹری نے پہلا اور بڑا سرجیکل اسٹرائیک کر دیا ہے۔

 صوبے کے اعلیٰ افسران کے پہلے باضابطہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری ڈاکٹر فخر عالم عرفان نے دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں اب کام نہ کرنے والے افسران کے لیے کوئی جگہ نہیں بچے گی۔

 اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری ڈاکٹر فخر عالم عرفان نے افسران کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو دن رات محنت کر کے دیگر صوبوں میں پائے جانے والے اس تاثر کو جڑ سے ختم کرنا ہوگا کہ خیبر پختونخوا کے سرکاری افسران کام نہیں کرتے۔

 انہوں نے افسران کو تنبیہ کی کہ دفاتر میں تاخیر سے آنے کا روایتی کلچر فوری ختم کیا جائے اور تمام بابو صبح 9 بجے سے پہلے لازمی دفاتر میں اپنی حاضری یقینی بنائیں۔

چیف سیکرٹری نے بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سطح پر کرپشن کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

افسران کی خود نمائی اور سستا کریڈٹ لینے کی عادت پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے انہوں نے ہدایت کی کہ اگر غلط کام کی ذمہ دار حکومت ہے تو اچھے کام کا کریڈٹ بھی ریاست کو جانا چاہیے۔ لہٰذا تمام سرکاری افسران اپنی ذاتی تشہیر کا شوق پورا کرنے کے بجائے خاموشی سے عملی کارکردگی پر توجہ دیں۔

عوام اور سرکاری دفاتر کے درمیان قائم خلیج کو ختم کرنے کے لیے چیف سیکرٹری نے گزشتہ کچھ سالوں سے منقطع کیے گئے تمام سرکاری دفاتر کے ٹیلی فون کنکشنز کو ہنگامی بنیادوں پر بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

 انہوں نے واضح کیا کہ افسران کی اولین ترجیح عوام کو ان کی دہلیز پر بہتر خدمات کی فراہمی اور ان کے التوا شدہ مسائل کا حل ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں : ضلع نوشہرہ میں اضاخیل گودام میں پڑی ہزاروں میٹرک ٹن ناقص اور مضر صحت گندم کے ذخیرہ پر چھاپہ

ڈاکٹر فخر عالم عرفان نے تمام اعلیٰ و ادنیٰ افسران کو خبردار کیا ہے کہ وہ بہت جلد کسی بھی وقت تمام سرکاری دفاتر کے اچانک اور سرپرائز دورے کریں گے جہاں حاضری اور عوامی شکایت کے ازالے میں کوتاہی پائے جانے پر موقع پر ہی سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

Scroll to Top