محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا کے ذیلی ادارے نظامتِ پیشہ ورانہ ترقی کے امور کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہواجس میں ممبر ایڈوائزری کونسل برائے تعلیم ڈاکٹرعامرعبداللہ کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں اساتذہ کی تربیت، نئے اساتذہ کے انڈکشن پروگرام اور سیکٹر کی بہتری کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ماضی میں سابقہ پی ٹی آئی کی کرپٹ حکومت کے طویل دور اقتدار میں تعلیمی اداروں، اساتذہ کی تربیت کے نظام اور متعلقہ پورٹلز کو بری طرح نظر انداز کیا گیا جس کی وجہ سے تعلیمی ڈھانچہ زبوں حالی کا شکار رہا اور اداروں میں شدید نوعیت کی نااہلی اور بدانتظامی کے نقائص پائے گئے۔
پی ٹی آئی کے گزشتہ دور کی پالیسیوں کی سست روی اور عدم توجہی کے باعث پیشہ ورانہ ترقی کے ادارے اپنی اصل کارکردگی دکھانے میں مکمل طور پر ناکام رہےاور سرکاری اساتذہ کے تربیتی امور اور ایل ایم ایس پورٹلز محض کاغذی کارروائی تک محدود رہ گئے۔
موجودہ انتظامیہ اور ذمے داران نے سابقہ دور کی ان تمام خرابیوں اور خامیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
موجودہ ٹیم کی بہتر حکمت عملی کے تحت نئے احکامات جاری کیے گئے ہیں تاکہ سابقہ دور کے پھیلائے گئے طوفانِ بدتمیزی اور تعلیمی پسماندگی کے اثرات کو زائل کیا جا سکے:
ایل ایم ایس پورٹل کی بہتری:
ممبر ایڈوائزری کونسل نے سابقہ حکومت کے دور میں نامکمل اور غیر فعال چھوڑے گئے لرننگ مینجمنٹ سسٹم پورٹل کو فوری طور پر موثر بنانے کی ہدایت کی۔ اس سلسلے میں تین دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے اور تین ہفتوں کے اندر پورٹل کو از سر نو بہتر بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔
خودکار رپورٹنگ نظام:
تربیت حاصل کرنے والے اساتذہ کی غیر حاضری کی بروقت اطلاع کے لیے خودکار رپورٹنگ کا نظام متعارف کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تربیتی کیلنڈر کی تجدید:
سالانہ تربیتی کیلنڈر کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اسے ایجوکیشن مانیٹرنگ انفارمیشن سسٹم سے منسلک کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ سابقہ دور کی طرح بدظنی اور ابہام کی کوئی گنجائش نہ رہے۔
ملازمتی ترقی کا نفاذ:
اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی کے مخصوص اشاریوں کو ان کی ملازمتی ترقی کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے تصوراتی نوٹ طلب کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کا 13 سالہ تعلیمی فریب بے نقاب! ڈاکٹر عامر عبداللہ کا بڑا سرجیکل اسٹرائیک، والدین کو بااختیار بنانے اور ہنگامی آڈٹ کا حتمی اعلان!
بعد ازاں ڈاکٹر عامر عبداللہ نے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے تحت پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے قائم ادارے کے اجلاس کی بھی صدارت کی، جہاں ماضی کی حکومت کے دور میں اس حساس شعبے پر بھی مجرمانہ غفلت برتے جانے کا انکشاف ہوا۔
موجودہ انتظامیہ نے اس ادارے کو جامعات کی سطح پر ایک ماڈل بنانے، تشدد پسندانہ خیالات کے حامل افراد کا انڈکس مرتب کرنے اور نصاب میں بہتری لانے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔





