گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے صوبے کے لیے 160 ارب روپے فوری فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس پر وزیراعظم نے مطالبات پر فوری عملدرآمد اور مزید مالی وسائل درکار ہونے کی صورت میں بھی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
پشاور میں گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ صوبے کے لیے اقدامات کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے شکر گزار ہیں، وزیراعظم نے صوبے کے گیس اور گندم سے متعلق مسائل فوری حل کیے ہیں جبکہ خیبرپختونخوا کی ضروریات کے مطابق گندم فراہم کی جائے گی، گندم کی فراہمی میں کسی قسم کے غلط استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اضاخیل گوداموں میں گندم کے معاملے کی تحقیقات جلد سامنے لائی جائیں گی اور اسکینڈل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
عوام کے ساتھ زیادتی کرنے والے افسران کو جوابدہ ہونا پڑے گا جبکہ کرپشن اور من پسند تعیناتیوں کے معاملے پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام متعلقہ اداروں کے سربراہان شریک ہوئے، اجلاس میں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال، انسداد دہشت گردی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی، صوبے میں تعینات افواج کے سربراہان نے سیکیورٹی امور جبکہ چیف سیکرٹری نے ترقیاتی منصوبوں اور آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا، اس موقع پر 12 اضلاع کے حکام نے بھی اپنے منصوبوں پر بریفنگ دی۔
گورنر نے کہا کہ صوبے میں امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اولین ترجیح ہے، امن کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے، حکومت ترقیاتی منصوبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل پر بھی کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے حقوق کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہونا ہوگا، جماعت اسلامی سمیت مختلف جماعتوں سے اس معاملے پر بات ہوئی ہے اور جماعتوں نے وفاق کے سامنے صوبے کے مسائل اٹھانے میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ صوبے کا مقدمہ وفاق کے سامنے ٹھوس دلائل کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔
فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی اور صفائی مہم شروع کردی گئی ہے، سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضے برداشت نہیں کیے جائیں گے اور آپریشن کے دوران کسی قسم کی سفارش قبول نہیں ہوگی، غفلت کے مرتکب افسران اور ذمہ دار سرکاری ملازمین کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ پولیس شہدا کے لیے پیکیج پر کام جاری ہے اور پولیس کو جدید آلات اور ضروری سامان فراہم کرنے کے لیے دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
گورنر نے پشاور میں ٹریفک کی خراب صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کے معاملات مختلف اداروں میں تقسیم ہیں۔ شہر میں ایک لاکھ گاڑیوں کے مقابلے میں صرف 23 ہزار رجسٹرڈ گاڑیاں ہیں۔ غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کا ریکارڈ بہتر بنانے اور ٹریفک نظام میں بہتری کے لیے قانون سازی کی جارہی ہے، جبکہ ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کے لیے جدید مشینیں بھی جلد نصب کی جائیں گی۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ ان کا وژن ایک ترقی کرتا، مضبوط اور بدلتا ہوا خیبرپختونخوا ہے، جہاں عوامی خدمت، شفافیت، امن اور ترقی کو ترجیح دی جائے گی۔





