خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے 13 سالہ حکمرانی کے باوجود تعلیمی نظام تباہ، 627 سرکاری اسکول بند

پشاور: خیبرپختونخوا میں ماضی اور موجودہ حکومتوں کی جانب سے ہر سال اربوں روپے کا بجٹ مختص کرنے، تعلیمی ایمرجنسی کے بلند بانگ دعوؤں اور زبردست داخلہ مہمات چلانے کا ڈرامائی ڈراپ سین ہو گیا ہے۔

 پختون ڈیجیٹل کو موصول ہونے والی سنسنی خیز سرکاری دستاویزات نے صوبائی محکمہ تعلیم کی مجرمانہ غفلت، غیر تدبیری اور سیاسی اقربا پروری کے بھیانک کھیل کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق صوبے کے مجموعی 34 ہزار 784 سرکاری اسکولوں میں سے 26 اضلاع کے 627 اسکول مکمل طور پر غیر فعال اور تالے لگے پڑے ہیں، جن کی تعمیر پر خرچ کیے گئے قوم کے اربوں روپے ضائع ہو چکے ہیں۔

 اس سنگین صورتحال میں سب سے دل دہلا دینے والا انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ ان میں سے 299 اسکول ایسے ہیں جہاں نہ تو کوئی استاد تعینات کیا گیا اور نہ ہی کوئی ایک طالب علم زیرِ تعلیم ہے، یعنی یہ عمارتیں اب تعلیمی اداروں کے بجائے بھوت بنگلوں کا منظر پیش کر رہی ہیں۔

اس تباہی کا سب سے بڑا نشانہ بچیوں کی تعلیم بنی ہے کیونکہ بند پڑے اسکولوں میں 83 فیصد سے زائد یعنی 524 اسکول لڑکیوں کے ہیں جبکہ لڑکوں کے صرف 103 اسکول شامل ہیں۔ ان میں 580 پرائمری، 31 مڈل، 10 مکتب اور 6 ہائی اسکول شامل ہیں جہاں کا تعلیمی عمل مکمل طور پر ٹھپ ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کے پاس کون سے خطرہ ناک میزائل موجود؟ٹرمپ کا خوفناک انکشاف!

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی رپورٹ نے اسکولوں کی بندش کی وجوہات کھول کر سامنے رکھ دی ہیں، جس کے مطابق صوبے بھر کے 207 اسکولوں میں تدریسی عملے کی عدم تعیناتی کی وجہ سے درس و تدریس کا آغاز ہی نہیں ہو سکا۔

 مزید برآں 16 نئے تعمیر شدہ اسکولوں کا ڈھانچہ مکمل ہونے کے باوجود محکمہ تعلیم کی سستی اور نااہلی کی وجہ سے وہاں اب تک عملہ تعینات نہیں کیا جا سکا۔

 ایک اور شرمناک انکشاف یہ ہوا ہے کہ 66 اسکولوں میں اساتذہ تو باقاعدگی سے تنخواہیں وصول کر رہے ہیں لیکن وہاں کوئی بچہ داخل ہی نہیں ہوا اور تعلیمی سرگرمیاں صفر ہیں۔

دوسری جانب 28 اسکول حکومت اور اراضی فراہم کرنے والے مالکان کے درمیان زمین کے تنازعات کی نذر ہو چکے ہیں، جہاں بچے اور اساتذہ دونوں موجود ہونے کے باوجود تعلیم کا سلسلہ معطل ہے۔

 اس کے علاوہ صوبے میں قانون کی بالادستی کا جنازہ نکالتے ہوئے 11 سرکاری اسکولوں پر بااثر مقامی افراد کے غیر قانونی قبضے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ڈیرہ اسماعیل خان میں 13 سال سے خستہ حال سرکاری اسکولوں کی تعمیر و مرمت شروع

ذرائع کے مطابق اس تباہی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں یہ تمام اسکول ضرورت یا عوامی فلاح کے بجائے محض سیاسی بنیادوں پر ایم این ایز اور ایم پی ایز کو نوازنے اور ٹھیکیداروں کا کمیشن بنانے کے لیے تعمیر کیے گئے۔

محکمہ تعلیم بھی اس مجرمانہ عمل میں برابر کا شریک رہا، جس نے فزیبلٹی کا جائزہ لیے بغیر آبادیوں سے دور پہاڑی اور ویران علاقوں میں ایسی جگہوں پر اسکول کھڑے کر دیے جہاں یا تو کوئی آبادی ہی موجود نہیں تھی یا بچوں کی تعداد اتنی کم تھی کہ اسکول چلانا ناممکن تھا۔

نتیجتاً قومی خزانے کے بے دردی سے ضیاع کے باوجود مقامی آبادی تعلیمی سہولیات سے محروم رہی۔ غیر فعال اسکولوں کی سب سے زیادہ ہولناک تعداد قبائلی اور جنوبی اضلاع میں ہے، جہاں جنوبی وزیرستان میں 119 اور شمالی وزیرستان میں 111 اسکول بند پڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : بیلون ڈی اور 2026 کی تقریب سے قبل ہیری کین کی کامیابی کی خبر وائرل

اس کے علاوہ بنوں میں 89، اپر کوہستان میں 68، کرم میں 51، لوئر کوہستان میں 29، خیبر میں 27، ڈیرہ اسماعیل خان اور اورکزئی میں 22، 22، ہنگو میں 16، دتہ خیل میں 13 اور مہمند میں 12 اسکولز کو تالے لگے ہوئے ہیں۔

 مانسہرہ اور ٹانک میں 7، 7، پشاور میں 5، چارسدہ اور سوات میں 4، 4، جبکہ کوہاٹ، کولئی پالس اور شانگلہ میں 3، 3 اسکول غیر فعال ہیں۔

یہی صورتحال باجوڑ، لکی مروت اور نوشہرہ میں 2، 2 جبکہ کرک، مردان اور صوابی میں ایک ایک اسکول کے ساتھ ہے۔

 اس ہولناک اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے واضح کیا ہے کہ حکومت تمام محکموں کے منصوبوں کی جانچ پڑتال کر رہی ہے اور خاص طور پر اس بات کا آڈٹ کیا جا رہا ہے کہ 2013 سے اب تک تعلیمی محکمے کے فنڈز کہاں اور کس طرح استعمال کیے گئے، جس کے بعد قصورواروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

Scroll to Top