پشاور: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ ہوتے ہی انتظامیہ اور پولیس مشینری حرکت میں آ گئی ہے، جس کے ساتھ ہی صوبے بھر میں جرائم پیشہ عناصر اور عوام کی زندگیوں سے کھیلنے والے مافیا کے خلاف بلا تفریق ایکشن کا تیز ترین سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
گورنر راج کے تحت صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ اب نہ کسی مجرم کو رعایت ملے گی اور نہ ہی سیاسی و انتظامی اثر و رسوخ کے پیچھے چھپنے کی اجازت ہوگی۔
اسی سلسلے میں ڈیرہ اسماعیل خان اور صوبائی دارالحکومت پشاور میں پولیس اور ضلع انتظامیہ نے دو الگ الگ بڑی اور کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے ناصرف منشیات و اسلحہ تسکروں کو دھر لیا بلکہ معصوم شہریوں کی صحت پر ڈاکا ڈالنے والے ملاوٹ مافیا کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں گورنر راج کی آمد کے بعد قانون کی حکمرانی کا لوہا منوانے کے لیے پولیس نے اسنیپ چیکنگ کے دوران برق رفتار کارروائی کی، جس کے نتیجے میں ایک خطناک ملزم واجد زیب ولد نوشیروان قوم محسود سکنہ وزیرستان حال وانڈہ بلوچ کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور میں بھائی کے قتل کی واقعہ میں نیا موڑ، ملزم گرفتار، پستول برآمد
ڈسپلن اور چوکسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس نے ملزم کے قبضے سے 1015 گرام اعلیٰ کوالٹی چرس، مہلک منشیات آئس اور غیر قانونی موثر ہتھیار برآمد کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
واقعے پر ڈی ایس پی کا کہنا تھا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد ضلع بھر میں جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی اور امن و امان کے قیام کے لیے بلا تفریق اور بلا خوف کارروائیاں پوری طاقت کے ساتھ جاری رہیں گی اور منشیات فروشوں کے لیے زمین تنگ کر دی جائے گی۔
دوسری جانب، پشاور انتظامیہ نے بھی گورنر راج کی سخت ہدایات کی روشنی میں عوام دشمن عناصر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن کیا ہے۔
قاضی آباد کے علاقے میں ڈپٹی کمشنر پشاور کی خصوصی اور ڈائریکٹ ہدایات پر ایکشن لیتے ہوئے ملاوٹ مافیا کی بڑی ساہوکاری کو بے نقاب کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : آئی سی سی ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، پاکستان ویمنز ٹیم کے اسکواڈ کا اعلان
انتظامیہ نے زہریلی اور مضرِ صحت چائے پتی تیار کرنے والے ایک گودام پر چھاپہ مار کر بھاری مقدار میں ممنوعہ اور خطرناک کیمیکلز سمیت ناقص چائے پتی برآمد کر کے گودام کو موقع پر سیل کر دیا۔
اس ہنگامی کارروائی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب خیبر پختونخوا میں عوام کے مال و جان اور صحت پر حملہ کرنے والے عناصر کا صفایا ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے گا اور انتظامیہ پوری قوت کے ساتھ گلی محلوں میں متحرک رہے گی۔





