بلوچستان حکومت کو کون غلط گائیڈ کر رہا ہے؟ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا حقائق کے منافی بیان شواہد کی روشنی میں مسترد

بلوچستان کے اہم ترقیاتی منصوبے تربت، مند روڈ پر ایف ڈبلیو او کی کارکردگی سے متعلق حالیہ تنقید کے بعد ٹھیکوں کی تقسیم، میرٹ اور وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کو فراہم کی جانے والی معلومات کے حوالے سے اہم سوالات سامنے آگئے ہیں۔

 115 کلومیٹر طویل اس سڑک کا ٹھیکہ اوپن بڈنگ کے ذریعے ایف ڈبلیو او کو ملا تاہم اب منصوبے کے معیار اور رفتار پر اعتراضات کے تناظر میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا وزیراعلیٰ کو منصوبے کی مکمل صورتِ حال سے آگاہ کیا گیا ہے یا انہیں یک طرفہ معلومات فراہم کی گئیں۔

منصوبے کے آغاز پر وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی خود اس کی پیش رفت اور اہمیت کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ دسمبر 2024 میں افتتاح کے موقع پر انہوں نے تعمیراتی معیار پر سمجھوتہ نہ کرنے اور منصوبے کو مقررہ مدت سے پہلے مکمل کرنے کی کوشش کرنے کی ہدایت دی تھی۔

اب اسی منصوبے پر تنقید کے بعد ضروری ہے کہ وزیراعلیٰ تک تمام متعلقہ حقائق پہنچائے جائیں اور تعمیراتی معیار، رفتار اور ٹھیکوں کی تقسیم سے متعلق معاملات کو ریکارڈ کی روشنی میں دیکھا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات، الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا

اس معاملے میں ایک اہم پہلو ٹھیکیدار مافیا کی مبینہ مداخلت کا بھی ہے۔ منصوبے سے متعلق سامنے آنے والے مؤقف کے مطابق بعض ٹھیکیداروں کی خواہش تھی کہ انہیں منصوبے کے مختلف حصوں میں کام ملے تاہم ایف ڈبلیو او نے ٹھیکوں کی تقسیم اپنے قواعد اور میرٹ کے مطابق کی۔

 اگر ایسا ہے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا ٹھیکوں کی تقسیم میں من پسند افراد کو ترجیح نہ ملنے کے بعد ادارے کے خلاف شکایات سامنے آئیں؟ اس سوال کا جواب ٹینڈر ریکارڈ، بولیوں کی تفصیلات اور متعلقہ دستاویزات سے ہی مل سکتا ہے۔

وزیراعلیٰ کے مشیران اور متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں منصوبے کے تمام پہلوؤں سے آگاہ کریں۔ اگر تعمیراتی معیار یا کام کی رفتار کے حوالے سے کوئی ٹھوس شکایت موجود ہے تو اس کی تفصیلات، تکنیکی رپورٹ اور ذمہ دار فریق کی نشاندہی کی جائے۔

محض عمومی اعتراضات کی بنیاد پر کسی ادارے کی کارکردگی پر سوال اٹھانے سے اصل مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ ضروری ہے کہ شکایات کی غیر جانب دارانہ جانچ کی جائے۔

تربت، مند روڈ کے معاملے میں یہ پہلو بھی اہم ہے کہ ایف ڈبلیو او کے اہلکاروں نے بلوچستان جیسے دشوار گزار اور حساس علاقے میں خدمات انجام دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں ایم پاکس کے کیسز میں اضافہ، محکمہ صحت کی رپورٹ جاری

 اس منصوبے سے وابستہ لیفٹیننٹ کرنل (ر) ارسلان حلیم سمیت اہلکاروں کی قربانیاں اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ بلوچستان میں ترقیاتی کام صرف تعمیراتی سرگرمی نہیں بلکہ خطرات سے بھرپور ذمہ داری بھی ہے۔ ادارے کی قربانیوں کا احترام اپنی جگہ، جبکہ معیار اور شفافیت کا جائزہ بھی ثبوت کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔

تقریباً 19 ارب روپے کے اس منصوبے کے بارے میں اصل ضرورت یہ ہے کہ ٹھیکوں کی تقسیم، تعمیراتی پیش رفت، معیار کی نگرانی اور ممکنہ شکایات کا ریکارڈ سامنے لایا جائے۔

 اگر ایف ڈبلیو او کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود ہے تو اس کی بنیاد پر کارروائی ہونی چاہیے، اور اگر اعتراضات کے پیچھے ٹھیکیداروں کے مفادات یا یک طرفہ معلومات کا کردار ہے تو اس پہلو کی بھی تحقیقات کی جائیں۔

وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی سے توقع ہے کہ وہ اپنے مشیران اور متعلقہ محکموں سے مکمل ریکارڈ طلب کرکے صورتِ حال کا جائزہ لیں گے تاکہ کسی بھی ادارے کے بارے میں فیصلہ یک طرفہ بریفنگ یا سیاسی بیانیے کے بجائے حقائق کی بنیاد پر ہو۔

 تربت، مند روڈ بلوچستان کے عوام کا منصوبہ ہے؛ اس کی تکمیل، معیار اور شفافیت کو کسی بھی گروہ کے مفادات پر ترجیح ملنی چاہیے۔

Scroll to Top