رانی عندلیب
پشاور: پشاور میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں بیک وقت ملازمت کرنے والے اساتذہ، پروفیسرز اور لیکچررز کے حوالے سے رپورٹ مرتب کر لی گئی ہے، جس میں مختلف کالجز، اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں خدمات انجام دینے والے ایسے اساتذہ کی نشاندہی کی گئی ہے جو سرکاری ڈیوٹی کے ساتھ نجی تعلیمی اداروں میں بھی کام کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مختلف سرکاری کالجز میں دن کے اوقات میں تدریسی فرائض انجام دینے والے بعض پروفیسرز اور لیکچررز نجی کالجز میں رات کی شفٹ میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں، جبکہ سرکاری کالجز کی نائٹ شفٹ میں کام کرنے والے بعض اساتذہ نجی تعلیمی اداروں میں دن کے اوقات میں پڑھا رہے ہیں۔
اس طرح دونوں شفٹوں میں سرکاری اور نجی اداروں کے درمیان تدریسی ذمہ داریاں انجام دینے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مختلف سرکاری اسکولوں کے بعض اساتذہ بھی دوسری شفٹ میں نجی تعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اسی طرح یونیورسٹیوں سے وابستہ بعض تعلیمی ماہرین، اساتذہ اور پروفیسرز نجی یونیورسٹیوں میں صبح اور شام کے اوقات میں بھی کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : 13 سالہ مسلط ٹولے کے جلائے گئے ریڈیو پاکستان سے حق کی فتح، ثمر ہارون بلور کا تاریخی اعلان
ذرائع کا کہنا ہے کہ پابندیوں کے باوجود بعض سرکاری تعلیمی اداروں، کالجز اور یونیورسٹیوں سے مقررہ وقت سے پہلے چھٹی کرکے نجی تعلیمی اداروں میں پہنچنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
اس صورتحال کے باعث سرکاری اداروں میں تدریسی اوقات کار کی پابندی اور تعلیمی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں نجی ٹیوشن سینٹرز اور اکیڈمیوں سے وابستہ سرکاری اساتذہ اور پروفیسرز کی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں۔
اس کے علاوہ ایسی نجی اکیڈمیاں چلانے والے سرکاری ملازمین کے کوائف جمع کرنے کا معاملہ بھی زیرِ غور رہا ہے، تاکہ سرکاری ملازمت کے ساتھ نجی تعلیمی سرگرمیوں میں ملوث افراد کی نشاندہی کی جا سکے۔
اس معاملے میں بنیادی توجہ اس بات پر ہے کہ سرکاری اساتذہ اپنی سرکاری ڈیوٹی کے مقررہ اوقات کی پابندی کریں اور تدریسی ذمہ داریوں کی ادائیگی متاثر نہ ہو۔





