90 کروڑ روپے کے فنڈز اور قیدیوں کے معاملے پر علی امین گنڈاپوراورشاندانہ گلزار کے درمیان لفظی جنگ، لیکڈ آڈیو سامنے آگئی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما شاندانہ گلزار نے پارٹی کے اندر قیدیوں اور کارکنوں کے لیے جمع کیے گئے کروڑوں روپے کے فنڈز میں سنگین مالی بے ضابطگیوں اور عدم شفافیت کے سنسنی خیز انکشافات کر دیے ہیں، جس کے بعد پارٹی صفوں میں شدید تھرتھلی مچ گئی ہے۔

میڈیاسے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شاندانہ گلزار نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اپنی ذاتی جیب اور زمینیں بیچ کر قیدیوں کے لیے 40 کروڑ روپے دیے تھے، جبکہ تقریباً 50 کروڑ روپے بیرون ملک سے جمع ہو کر آئے تھے۔

تاہم یہ مجموعی طور پر 90 کروڑ روپے کی بھاری رقم ان قیدیوں اور مظلوم کارکنوں تک پہنچی ہی نہیں جن کے نام پر یہ فنڈز اکٹھے کیے گئے تھے۔

شاندانہ گلزار نے موقف اپنایا کہ تحریک انصاف کا نہ بیرون ملک کوئی سرکاری اکاؤنٹ ہے اور نہ ہی پاکستان میں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جن لوگوں کے پاس قیدیوں کے لیے یہ فنڈز آئے، انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ پیسہ کہاں خرچ کیا گیا۔

 انہوں نے دعویٰ کیا کہ فرضی اور جھوٹی این جی اوز بنا کر فنڈز کو ہضم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور جب تہمتیں لگائی جائیں گی تو سچائی کا نقاب اترنا لازمی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کا سالوں سے زیرِ التوا منصوبہ 10 روز میں مکمل

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان این جی اوز کے نام عام کیے جائیں اور یہ بھی سامنے لایا جائے کہ پیسہ کن مخصوص افراد میں تقسیم ہوا؟ پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ جب 26 اکتوبر کے قیدی جیلوں میں سختیاں جھیل رہے تھے اور مار کھا رہے تھے تو اس وقت انہوں نے خود جا کر انہیں رہا کروایا، جبکہ بڑی بڑی باتیں کرنے والے اور مبینہ این جی اوز والے غائب تھے۔

شاندانہ گلزار نے کہا کہ پارٹی کے اندر انکوائری کمیشن تب بنتا جب پیسہ پارٹی کے باضابطہ کھاتے میں آتا، مگر نہ یہ پیسہ پارٹی کو ملا، نہ قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین کو دیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر مجھے پیسہ ملتا تو کیا میں اپنے جیل میں بند قیدیوں اور کارکنوں کو نہ دیتی؟

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اب پارٹی کے اندر نیا ڈراما شروع ہو چکا ہے اور انہیں پیغام بھیجا گیا ہے کہ اکٹھا کیا گیا پیسہ واپس بیرون ملک بھیج دیا گیا ہے۔

 شاندانہ گلزار نے سوال داغا کہ پیسہ وصول کس نے کیا اور واپس کس نے بھیجا؟ علی امین گنڈاپور سے بھی پوچھا جائے کہ انہوں نے جو رقم دی تھی وہ کس کے حوالے کی گئی تھی؟

Scroll to Top