علی محمد خان نے کہا ہے کہ آئین اور قانون سے بڑا کوئی نہیں ،سب نے ثنا اللہ کو سپورٹ کیا ، یا تو اراکین کو تحفظ دیں یا پبلک اکائونٹس کیمٹی کو تالا لگا دیں ،معاملہ پارلیمان میں اُٹھائینگے۔
تفصیلات کے مطابق سینئر رہنما پی ٹی آئی علی محمد خان نے کہا ہے کہ ہماری لیڈر شپ کو اپنی کھال موٹی رکھنی چاہیے ، میری تو خان صاحب کیساتھ ٹریننگ ہوچکی ہے اصل معاملہ عمران خان کی رہائی ہے کا ہے ، اس پر توجہ ہونی چاہیے ،اگر وہ احتساب کی بات کرتے ہیں تو انہیں نشانہ نہ بنایاجائے ۔
انہوں نے کہاکہ پارٹی میں کسی کو جذباتی نہیں ہونا ، میرا کوئی سگا نہیں میں اپنا کام کرتا ہوں اور گھر جاتاہوں ، ہمیں کوئی عہدہ نہیں چاہیے ، ہم عہدوں کیلئے پی ٹی آئی میں نہیں آئے تھے ، ایک ڈیمانڈ ہے کہ جس کو ذمہ داریاں ملی ہیں وہ پوری کریں ۔
انہوں نے کہا کہ میں نیشنل اسمبلی ممبر ہوں کوئی حکومت کی فسطایت اور ظلم پر بات نہیں کرہا ، عمران خان اور شاہ محمود پر کوئی بات نہیں ہورہی ، اصل ایشو ز سے ہٹایا جارہاہے ۔
انہوں نے کہاکہ میں کسی مذاکرات کا حصہ نہیں ہوں ، اگر ہوں بھی تو میں نہیں بتائونگا ، اگر مذاکرات ہورہے ہیں ، تو اچھی بات ہے اور نہیں ہورہے تو لمحہ فکریہ ہے آدھے سے زیادہ آبادی عمران خان کیساتھ کھڑی ہے ، اس وقت نظام کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ آدھے سے زیادہ آبادی عمران خان کیساتھ کھڑی ہے ، اس وقت نظام کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے جو تکلیف سہنی تھی وہ کاٹ لی ہے ، ہمیں تو دہشت گردی کی جنگ لڑنی ہے ملک اکائومی ٹھیک کرنی ہے ، دنیا میں پاکستان کو ایک اہم مقام دلانا ہے ۔





