بھارتی انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کو اپنے کاروباری مراکز سے نکالنے کا مطالبہ کر دیا ہے اور انہیں دو دن میں دکانیں خالی کرانے کی مہلت دے دی۔
پہلگام فالس فلیگ کی ہزیمت چھپانے کے لیے انتہا پسند ہندو گروپوں نے مسلمانوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، مسلمانوں کے گھروں پر حملوں کے بعد اب ان کی معیشت کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بھارتی پولیس کی نگرانی میں انتہا پسند ہندوؤں نے ریلیاں نکالنا شروع کر دی ہیں ، ریلیوں میں اعلان کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو دکانوں پر کام دینے والے دکانداروں کی دکانیں بند کر دی جائیں گی اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ آئندہ کسی مسلمان کو دکانوں پر کام نہ دیا جائے۔
یہ تمام صورتحال مودی حکومت کی سرپرستی میں ہندوتوا کی سیاست کے کھلے عام پرچار کا حصہ ہے جس نے بھارت کے سیکولر تشخص کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کا دوغلا چہرہ، 41 سال بھارت میں مقیم پاکستانی خاتون کو ملک بدر کردیا
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ مودی اور ان کی جماعت بی جے پی کا اصل مقصد مسلمانوں کو نشانہ بنانا ہے۔
انتہا پسند ہندو گروپوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر مسلمانوں کے خلاف سخت اقدامات نہیں کیے گئے تو پھر اپنے حقوق کی حفاظت خود کریں گے۔





