ہماری آواز ناپسند ہے تو متفقہ قرارداد کی خواہش کیوں؟ عمر ایوب کا سخت ردعمل سامنے آگیا

ہماری آواز ناپسند ہے تو متفقہ قرارداد کی خواہش کیوں؟ عمر ایوب کا سخت ردعمل سامنے آگیا

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ہماری آواز کو برداشت نہیں کیا جاتا، تو ہم سے متفقہ قراردادیں منظور کروانے کی توقع کیوں رکھی جاتی ہے؟

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے عمر ایوب نے شکایت کی کہ ان کی گزشتہ روز کی تقریر کو ایوان میں مکمل طور پر نشر نہیں کیا گیا ان کا کہنا تھا’’میری تقریر کٹ کر دی گئی، جب ڈی جی سے مکمل تقریر کی کاپی مانگی تو جواب دیا گیا کہ میرے پاس اس کا اختیار نہیں ہے۔‘‘

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ انہوں نے اپنی تقریر میں ملک کے لیے مثبت بات کی، اتحاد و یگانگت کا پیغام دیا، لیکن اس کے باوجود اسے روکا گیا۔ عمر ایوب کا کہنا تھا’’اگر ایسا ہی رویہ رہا تو ہم باہر اپنی اسمبلی لگا لیں گے۔‘‘

اس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے وضاحت کی کہ عمر ایوب کی تقریر ریکارڈ کا حصہ ہے اور جو الفاظ قواعد کے مطابق حذف کرنے ہوں گے، انہیں نکال کر تقریر کی کاپی فراہم کر دی جائے گی۔

عمر ایوب نے جذباتی انداز میں کہا’’کیا ہم پاکستان کے خلاف کوئی بات کر سکتے ہیں؟ میرا پورا خاندان اس ملک کے دفاع میں شامل رہا ہے۔ ہم پر سوال اٹھانا مناسب نہیں۔‘‘

قومی اسمبلی میں عمر ایوب کے اس دوٹوک مؤقف نے حکومتی بینچز کو بھی جواب دینے پر مجبور کر دیا، جبکہ اپوزیشن ارکان نے ان کے مؤقف کی تائید کی۔

Scroll to Top