جہاں جہاں اور جس چیز سے ملک کو خطرہ ہے اسے ختم کرنا پاکستان کا حق ہے، بیرسٹر گوہر

بھارت پاکستان کا پانی نہیں روک سکتا، بیرسٹر گوہر کا سندھ طاس معاہدہ عالمی عدالت میں لے جانے کا مشورہ

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ 9 سال کے طویل مذاکرات کے بعد طے پایا تھا، لیکن مودی نے پہلی مرتبہ اس معاہدے کو معطل کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھارت کے رویے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایک بھارت مودی کا ہے اور دوسرا بھارت سیکولر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی کا بھارت مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے قتل عام پر خوش ہے۔بیرسٹر گوہر نے سندھ طاس معاہدہ کی معطلی کے حوالے سے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ 9 سال کے طویل مذاکرات کے بعد طے پایا تھا، لیکن بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے پہلی مرتبہ اس معاہدے کو معطل کیا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ بھارت پاکستان کا پانی کسی صورت نہیں روک سکے گا اور پاکستان کی حکومت کو سندھ طاس معاہدہ کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہ غزہ طرز کی جنگ نہیں ہوگی، اگر پاک بھارت جنگ ہوئی تو اس کے نتائج بہت دور تک جائیں گے۔

بیرسٹر گوہر نے بھارت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا سامنا صرف پاکستان کو نہیں بلکہ بھارت کو بھی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا’’بھارت نے جعفر ایکسپریس حملے کی مذمت تک نہیں کی، جبکہ ہم نے پلوامہ سے لے کر پہلگام تک ہر واقعے کی مذمت کی۔‘‘

پی ٹی آئی چیئرمین نے مزید کہا کہ بھارت کو اپنے داخلی مسائل اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، اور پاکستان کے خلاف جھوٹے الزامات لگانے کے بجائے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

Scroll to Top