خیبر پختونخوا میں سولر اسکیم یا اربوں کی بندربانٹ؟ پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں ہوش اُڑا دینے والے انکشافات

پشاور: پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ارشد عزیز ملک نے خیبرپختونخوا میں مفت سولرائزیشن اسکیم سے متعلق کئی سنجیدہ بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ دراصل غریب افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے تجویز کیا گیا تھا، لیکن اس میں شفافیت کی شدید کمی دیکھی گئی۔

ارشد عزیز ملک کے مطابق منصوبے کے تحت جو آل ان ون سولر یونٹ تجویز کیا گیا، وہ چین میں صرف ایک کمپنی تیار کرتی ہے، پشاور میں اس کا صرف ایک ہی سپلائر موجود ہے اور برانڈ و ماڈل بھی ایک ہی ہے۔ اس یونٹ کی قیمت 2 لاکھ 4 ہزار روپے بتائی گئی، جبکہ مارکیٹ میں اس یونٹ کی اصل قیمت زیادہ سے زیادہ 1 لاکھ 40 ہزار روپے ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مردان میں سکولوں اور مساجد کو سولرائز کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، اس کے لیے ٹھیکہ دار کو پیشگی ادائیگی بھی کی گئی، لیکن وہ ٹھیکہ دار اب غائب ہے اور متعلقہ مقامات پر کوئی سولر پینلز نصب نہیں کیے گئے۔

ارشد عزیز ملک نے یہ بھی بتایا کہ صوبے میں سولرائزیشن اسکیم کو 20 پیکجز میں تقسیم کیا گیا، اور 13 کمپنیاں سامنے آئیں۔

یہ بھی پڑھیں : حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کا آرتھوپیڈک یونٹ، ناقص منصوبہ بندی اور کرپشن کی زندہ مثال

ہر کمپنی کو دو سے زیادہ پیکجز کے لیے درخواست دینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ حیران کن طور پر 18 پیکجز کے لیے صرف ایک ایک کمپنی نے درخواست دی، جس کی وجہ سے کسی بھی مرحلے پر مسابقت نہ ہونے کے باعث انہی کمپنیوں کو کنٹریکٹس دے دیے گئے۔

Scroll to Top