خیبرپختونخوا میں 40 ارب روپے کے کرپشن سکینڈل کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، مولانا فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سنگین الزامات سامنے آ چکے ہیں اور صرف کوہستان سکینڈل میں40 ارب روپے کی ریکوری ہوئی ہے جس پر عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سپیکر صوبائی اسمبلی کی جانب سے کیے گئے انکشافات نے حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ان کا کہنا تھا کہ جب تک خیبرپختونخوا میں جے یو آئی (ف) کی حکومت نہیں آتی اس وقت تک کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں۔

خیبرپختونخوا میں پیپلزپارٹی کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا احتجاج کرپشن کے خلاف نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ ان کا کرپشن کا ریکارڈ ٹوٹ رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے چائلڈ میرج ایکٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دین اسلام میں شادی کی بنیاد عمر نہیں بلکہ بلوغت ہے، جے یو آئی اس قسم کی غیر شرعی قانون سازی کو تسلیم نہیں کرتی اور ان حکومتی اقدامات کے خلاف تحریک چلائی جائے گی۔

سربراہ جے یو آئی نےکہا کہ ملک کی اسلامی شناخت کو ختم کیا جا رہا ہے اور قرآن و سنت کے منافی قانون سازی کی جا رہی ہے، جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے جبکہ فیٹف اور آئی ایم ایف کو جواز بنا کر عوام دشمن قوانین نافذ کیے جا رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ناگزیر ہیں اور دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ افغان سرحد پر حالات بہتر ہو رہے ہیں تاہم بھارت کی جانب سے جارحیت کا خدشہ اب بھی موجود ہے۔

 سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ہمیں پاکستان کی دفاعی قوتوں پر مکمل اعتماد ہے بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان پرامن ملک ہے، جنگ نہیں چاہتے، جارحیت پر منہ توڑ جواب دیں گے، صدر اور وزیراعظم کا عزم

عالمی سیاست پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ نائن الیون کے بعد دنیا میں جو عالمی طاقت آئی تھی وہ اب ختم ہو رہی ہے، دنیا ایک نئی صف بندی کی طرف بڑھ رہی ہے اور چین ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بن کر سامنے آ رہا ہے، چین کی قیادت میں ایشیا ایک نیا معاشی ٹائیگر بننے جا رہا ہے جدید دور کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان مزید کہا کہ 29 جون کو ہزارہ ڈویژن میں بڑی کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔

Scroll to Top