چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکہ کے مبینہ حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام خطے میں خطرناک کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں بیرسٹر گوہر نے کہا۔
’’ایران پر پہلا براہِ راست حملہ ایک نازک اور خطرناک موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن کو متاثر کر سکتے ہیں۔‘‘
ایران کے دفاع کا حق تسلیم کیا جائے
پی ٹی آئی چیئرمین نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اس تنازع کے فوری خاتمے اور کشیدگی کو کم کرنے کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ:
’’ایران کو غیر ملکی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے، اور بین الاقوامی برادری کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن و استحکام کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔‘‘
عالمی برادری پر سفارتی حل پر زور
بیرسٹر گوہر نے عالمی قوتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے معاملات حل کریں تاکہ خطہ کسی نئے محاذ آرائی کا شکار نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ
’’مشرق وسطیٰ میں جنگ یا مزید بدامنی کسی کے مفاد میں نہیں، ہمیں امن، استحکام اور باہمی احترام کی فضا قائم کرنی ہوگی۔‘‘
پاکستانی عوام میں بھی گہری تشویش
امریکہ کی جانب سے ایران کی حساس جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد پاکستانی سیاسی و مذہبی حلقوں میں بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ حملہ خطے میں پہلے سے جاری کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔





