ایم پی اےرشاد خان کی خیبرپختونخوا حکومت پر بجٹ، صحت اور تعلیم پر کڑی تنقید

مسلم لیگ (ن) کے رکنِ خیبر پختونخوا اسمبلی رشاد خان نے صوبائی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضمنی بجٹ اس حکومت کی ناکامی کا اعتراف ہے ۔

رشاد خان نے اپنی تقریر میں شانگلہ کے عوامی مسائل پر بھی آواز بلند کی۔ ان کے مطابق ہمارے علاقے کے مریضوں کو علاج کے لیے شانگلہ سے پشاور آنا پڑتا ہے، خصوصاً گردوں کے مریضوں کو، کیونکہ مقامی سطح پر کوئی سہولت موجود نہیں۔

انہوں نے امن و امان کی صورتحال پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ پورے جنوبی اضلاع نے وزیراعلیٰ کو امن کی ٹوپی پہنائی تھی، مگر میرے حلقے میں چیک پوسٹ پر حملے کے بعد اُسی چیک پوسٹ کو ختم کر دیا گیا۔

ایجوکیشن سیکٹر میں بے ترتیبی پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ روز بروز ٹرانسفر پوسٹنگز جاری ہیں، جو تعلیمی ماحول کو خراب کر رہی ہیں۔ اگر نئے اسکولز نہیں بنا سکتے تو کم از کم نظم و ضبط کو برباد نہ کریں۔

رشاد خان نے سیاسی تقرریوں اور ترقیاتی فنڈز کی غیر مساوی تقسیم کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، “میرے حلقے میں سیاسی بنیادوں پر ٹرانسفر پوسٹنگز کی روایت ختم ہونی چاہیے۔ اگر ہمیں فنڈز نہیں دیے جا رہے، تو کم از کم حکومتی ایم پی ایز کو ہی دے دیں تاکہ عوام کے کچھ مسائل تو حل ہوں۔

یہ بھی پڑھیں :خیبرپختونخوا پولیس نے جدید اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی حاصل کرلی

بجلی کے بحران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ شانگلہ بجلی پیدا کرتا ہے لیکن خود بجلی سے محروم ہے۔ اگر لوڈشیڈنگ ختم نہ ہوئی تو میں خود احتجاج کی قیادت کروں گا۔

Scroll to Top