اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے انکشاف کیا ہے کہ 30 جون تک خیبر پختونخوا کا بجٹ منظور نہ ہوتا تو وفاق کی جانب سے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کیے جانے کا خدشہ تھا۔
ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجٹ کی منظوری ایک سنگین قانونی ضرورت بن چکی تھی، اور وقت پر اقدام نہ کرتے تو بڑا آئینی بحران پیدا ہو سکتا تھا۔
تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف میں اندرونی مشاورت کا عمل بہتر نہیں رہا، تاہم اب ماضی کو چھوڑ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی فیصلوں کے طریقہ کار میں بہتری کی گنجائش موجود ہے اور بہتر عمل سے بدنیتی کے تاثر کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ بانی تحریک انصاف کی ہمشیرہ علیمہ خان پارٹی کی کارکردگی سے ناراض تھیں، اور ان کا مؤقف تھا کہ قائد کے احکامات پر بہتر انداز میں عملدرآمد ہونا چاہیے تھا۔
یہ بھی پڑھیں : سپریم کورٹ عمران خان کی ہدایت پر آیا ہوں، بجٹ پر مشاورت ضروری تھی، علی امین گنڈاپور
جھگڑا نے زور دیا کہ صوبے کے مفاد میں ہر ممکن اقدام کیا جانا چاہیے کیونکہ وفاق خیبر پختونخوا کے ساتھ مالی ناانصافی کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جو آئندہ ایسے خطرات کو ٹال سکیں اور صوبے کے آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔





