گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سوات میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے اس واقعے میں غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی چینل (ہم نیوز) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاحوں کے لیے بہتر سہولیات کا انتظام ہونا ضروری ہے تاکہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔
فیصل کریم کنڈی نے سوال اٹھایا کہ جب سوات میں یہ واقعہ ہوا تو ریسکیو ادارہ کہاں تھا؟ ان کا کہنا تھا کہ سوات کے نمائندے اب بہرے اور گونگے ہو چکے ہیں اور حکومت کو عوامی مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے بلین ٹری پراجیکٹ کے متعلق بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ آج کہاں ہے اور پی ڈی ایم اے پیسہ کس مقصد کے لیے لے رہا ہے۔
گورنر نے تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کی عدم موجودگی پر بھی اظہار تشویش کیا اور کہا کہ سوات واقعے میں جن افراد نے کردار ادا کیا، وہی حقیقی ہیرو ہیں اور انعام کے مستحق ہیں۔
اسی دوران، گورنر خیبرپختونخوا نے پیپلز پارٹی کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی وفاقی حکومت کی حمایت کرتی ہے اور اگر پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ کا حصہ بنتی ہے تو یہ ملک کے لیے مثبت اقدام ہوگا، البتہ پارٹی میں کچھ سیاسی لوگ شامل ہوئے ہیں جن کا سیاسی مستقبل واضح نہیں۔
گورنر نے وزیراعظم شہباز شریف اور چودھری نثار کی حالیہ ملاقات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات کافی عرصے بعد ہوئی ہے اور چودھری نثار کا ن لیگ میں شامل ہونا یا نہ ہونا ان کا ذاتی فیصلہ ہوگا۔





