پشاور: سانحہ دریائے سوات کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے سیلابی صورتحال میں بروقت امدادی کارروائیوں کے لیے ڈرونز اور جدید آلات کے استعمال کا فیصلہ کر لیا ہے۔
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت گورننس امور پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں قدرتی آفات، خاص طور پر دریاؤں میں طغیانی کے دوران ریسپانس سسٹم کو مؤثر بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریسکیو ٹیمیں جدید ٹیکنالوجی سے لیس کی جائیں گی، جبکہ تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز آپریشن جاری رکھا جائے گا۔ ساتھ ہی غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام کے لیے دریاؤں کے اطراف ڈی مارکیشن کا عمل بھی شروع کرنے کی ہدایت دی گئی۔
ریسکیو اہلکاروں اور مقامی افراد کو ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موک ڈرلز فراہم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ مقامی سطح پر فوری ردِعمل ممکن بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : حافظ حمداللہ کا شیخ وقاص کو جواب، مولانا فضل الرحمان کو پاکستانی سیاست کی ضرورت قرار دے دیا
چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے اجلاس سے خطاب میں زور دیا کہ دریاؤں کے اطراف دفعہ 144 کا مکمل نفاذ یقینی بنایا جائے اور ہوٹل مالکان کو لائف جیکٹس اور دیگر حفاظتی سامان رکھنا لازم قرار دیا جائے۔
یہ اقدامات حالیہ سانحات کے پیش نظر عوامی تحفظ کو یقینی بنانے اور ریسکیو سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔





