ڈیرہ اسماعیل خان: عالمی یوم آبادی کے موقع پر آگاہی سیمینار، واک اور تقریبات کا انعقاد

ڈیرہ اسماعیل خان میں عالمی یوم آبادی کے موقع پر محکمہ بہبود آبادی خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا جن کا مقصد عوام کو بڑھتی ہوئی آبادی کے چیلنجز، خاندانی منصوبہ بندی اور معاشی و سماجی مسائل سے آگاہ کرنا تھا۔

ان تقریبات میں سیمینارز، آگاہی واکس، اور گاؤں کی سطح پر بیداری مہمات شامل تھیں جس میں عوام نے بھرپور شرکت کی۔

مرکزی تقریب ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفس ڈیرہ اسماعیل خان میں منعقد ہوئی، جہاں پر ایک جامع سیمینار کا اہتمام کیا گیا۔ اس پروگرام میں مرد و خواتین، ایل ایچ ڈبلیو، سماجی کارکنان، اساتذہ، یوتھ نمائندگان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

“نوجوانوں کو اس قابل بنانا کہ وہ ایک منصفانہ اور پُرامید دنیا میں اپنی مرضی کے مطابق خاندان تشکیل دے سکیں” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر نظام الدین محسود نے عالمی یوم آبادی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی ایک خاموش بحران ہے جو صحت، تعلیم، روزگار اور بنیادی سہولیات پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سال کا تھیم نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ باعلم فیصلے لے کر اپنے اور اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی کر سکیں۔

ڈپٹی ڈیموگرافر محمد نعیم خان خٹک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت دنیا کے بڑے آبادی والے ممالک میں شامل ہے اور اگر ہم نے اب بھی بروقت اقدامات نہ کیے تو آنے والے وقتوں میں حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں اور معاشرے میں خاندانی منصوبہ بندی کے مثبت پیغام کو عام کریں۔

تقریب میں سینئر صحافی محمد عرفان مغل نے بھی شرکت کی اور اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوانوں کو با اختیار بنانے کی جو تھیم محکمہ منصوبہ بندی نے متعارف کرایا ہے یہ ہمارے مستقبل کی منصوبہ بندی میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہاکہ کیونکہ ہمارے مستقبل کی منصوبہ بندی اس نوجوان نسل نے کرنی ہے اور انہیں بااختیار بنا کر ہم مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر دیگر مقررین جن میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر یوسف خان، مجیب خان، لیڈی ہیلتھ وزیٹرز اور کمیونٹی موبلائزرز شامل تھےنےبڑھتی ہوئی آبادی کے اثرات پر روشنی ڈالی۔

مقررین نے کہا کہ والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ رکھیں تاکہ وہ اپنی اولاد کو بہتر تعلیم، صحت اور زندگی فراہم کر سکیں۔

اس سیمینار میں فیملی ویلفیئر ورکر، فیملی ویلفیئر کونسلر، فلیڈ ٹیکنیکل آفیسر، فیملی ویلفیئر اسسٹنٹ نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

تقریب کے اختتام پر ایک شعوری واک کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں شرکاء نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر خاندانی منصوبہ بندی، صحت مند معاشرہ، تعلیم اور خواتین کی خود مختاری کے حوالے سے مختلف نعرے درج تھے۔

واک ڈسٹرکٹ پاپولیشن آفس سے شروع ہو کر مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی واپس اختتام پذیر ہوئی، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس کے علاوہ ضلع بھر کی مختلف یونین کونسلز، ویلیج کونسلز اور بنیادی صحت مراکز میں آگاہی سیشنز، ڈور ٹو ڈور وزٹ، اور ایل ایچ ڈبلیو کی مدد سے بیداری مہمات چلائی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں : ملک کے مختلف علاقوں میں تیز آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

ان مہمات میں خواتین کو خاص طور پر آگاہ کیا گیا کہ کس طرح وہ صحت مند خاندانی زندگی گزار سکتی ہیں اور آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو روکنے میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں۔

Scroll to Top