فیض آباد احتجاج کیس، فیصل جاوید کی بریت کی درخواست مسترد

فیض آباد احتجاج کیس، فیصل جاوید کی بریت کی درخواست مسترد

انسداد دہشت گردی عدالت نے فیض آباد احتجاج کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید خان کی بریت کی درخواست مسترد کر دی، جبکہ کیس کی مزید سماعت 31 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔

نجی ٹی وی چینل (دنیا نیوز)کیمطابق انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی، جس میں فیصل جاوید، علی امین گنڈاپور، عامر محمود کیانی، راشد حفیظ، جمشید مغل سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے۔ کیس بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کے بعد فیض آباد میں ہونے والے احتجاج سے متعلق ہے۔

فیصل جاوید، حیدر بن مسعود اور راجہ ماجد کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں دی گئیں، جبکہ دیگر رہنما عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے فیصل جاوید کی بریت کی درخواست مسترد کر دی اور استغاثہ کے دو گواہان کے بیانات ریکارڈ کر لیے۔

جج نے ریمارکس دیے کہ اگلی سماعت پر دفاعی وکلا گواہان پر جرح کر سکتے ہیں۔ اس دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور ایک بار پھر عدالت میں پیش نہ ہوئے۔

سماعت کے دوران جج طاہر عباس سپرا نے عامر کیانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’آپ عدالت سے چلے جائیں، آپ اشتہاری ہیں، اگر پولیس نے سنا تو گرفتار کر لیا جائے گا۔‘‘عدالت نے واضح کیا کہ عامر کیانی تین بار اشتہاری قرار دیے جا چکے ہیں۔

عامر کیانی نے عدالت میں اپنی غیر حاضری کو تسلیم کرتے ہوئے معذرت کی اور وعدہ کیا کہ وہ باضابطہ درخواست دائر کریں گے۔ عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 31 جولائی مقرر کر دی۔

Scroll to Top