اب ہم خیبرپختونخوا میں عدم اعتماد کر کے دکھائیں گے، گورنر فیصل کنڈی

اب ہم خیبرپختونخوا میں عدم اعتماد کر کے دکھائیں گے، گورنر فیصل کنڈی

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ صوبے میں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا اپوزیشن کا جمہوری حق ہے اور اب وہ یہ حق استعمال کر کے دکھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے کہا تھا 5 سینیٹرز منتخب کریں گے، جو کر کے دکھایا، اب عدم اعتماد کر کے دکھائیں گے۔

نجی ٹی وی چینل (جیو نیوز) کو انٹرویو دیتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے کہ صوبے میں لاء اینڈ آرڈر خراب ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت کو ضرورت محسوس ہو تو اٹھارہویں ترمیم کے بعد وہ ایف سی یا فوج کو طلب کر سکتی ہے۔

گورنر نے کرم کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک سال سے صورتحال خراب ہے مگر صوبائی حکومت نے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کیے۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور پر تنقید کرتے ہوئے فیصل کنڈی نے کہا کہ اگر وہ خود لوگوں کو گرفتار کر رہے ہیں اور پھر کسی کے کہنے پر رہا کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ان کی رٹ نہیں رہی۔ ایسی صورت میں انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے، ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنا درست نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس باصلاحیت ضرور ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ان کو وسائل اور جدید سہولیات کون فراہم کرے گا؟ اگر فوج کو ہٹانا ہے تو اس کی متبادل حکمت عملی کیا ہے؟

گورنر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ صوبائی اسمبلی میں کبھی اس بگڑتی صورتحال پر سنجیدہ بات نہیں ہوئی، اور اب وقت آ گیا ہے کہ وفاق اور صوبہ ایک پیج پر آ کر مل کر کام کریں۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 5 اگست کو مجوزہ احتجاجی تحریک کے بارے میں گورنر نے کہا کہ ’’یہ محض ایک شوشہ ہے، کچھ نہیں ہوگا۔ عوام اب باشعور ہیں اور یہ ڈرامے مزید نہیں چلیں گے۔‘‘

Scroll to Top