ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے پاکستان سے تجارت بڑھانے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران باہمی تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک لے جانا چاہتا ہے۔
ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اپنے پہلے دو روزہ سرکاری دورے پاکستان پہنچے ہیں جس کا مقصد ایران اور پاکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینا ہے۔
لاہور سے اسلام آباد روانگی سے پہلے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان کے ساتھ تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا خواہش مند ہے۔
صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ہم شاہراہِ ریشم کے راستے پاکستان اور چین سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں جو آگے یورپ تک پھیلا جا سکتا ہے۔
ایرانی صدر نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان موجودہ تجارتی اور سفارتی تعلقات کو مستحکم بنانے پر زور دیا۔
حالیہ برسوں میں پاکستان اور ایران نے توانائی، سیکیورٹی اور معیشت جیسے اہم شعبوں میں کئی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔
جنوری 2024 میں دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پار کارروائیوں کے بعد تناؤ پیدا ہوا تھ، جسے فوری سفارتی کوششوں کے ذریعے کم کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر دفاع خواجہ آصف سے ایرانی ہم منصب کی ملاقات، علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال
اپریل 2024 میں ایران کے اس وقت کے صدر ابراہیم رئیسی نے بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کے کئی معاہدے طے پائے تھے۔





