اسرائیلی ناکہ بندی نے غزہ کو قحط میں دھکیل دیا، بھوک سے 57 فلسطینی دم توڑ گئے

غزہ پر اسرائیلی حملے، مزید 44 فلسطینی شہید، اقوام متحدہ نے شدید بحران کی نشاندہی کر دی

غزہ : اسرائیل کی جانب سے غزہ کے مختلف علاقوں پر تازہ فضائی اور زمینی حملوں کے نتیجے میں مزید 44 فلسطینی شہید ہو گئے۔

شہید ہونے والوں میں 18 ایسے افراد شامل ہیں جو امدادی مراکز کے باہر خوراک اور ادویات کے حصول کے لیے جمع تھے۔

عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی افواج کی بمباری میں امدادی قافلے اور پناہ گزین مراکز بھی نشانے پر ہیں، جس سے انسانی بحران میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی محاصرے اور امدادی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں کے باعث غزہ میں جان بچانے والی طبی کارروائیاں مفلوج ہو چکی ہیں۔

جنگ کے آغاز سے اب تک فاقہ کشی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 193 ہو گئی ہے، جبکہ مجموعی طور پر شہداء کی تعداد 61 ہزار 158 تک پہنچ چکی ہے، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکا دیوالیہ ہونے سے ترقی کی راہ پر آ چکا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت غزہ پر مستقل قبضے اور مقامی آبادی کو جبری طور پر وسطی علاقوں میں منتقل کرنے کے منصوبے پر عملدرآمد کی تیاری کر رہی ہے، جس میں امریکا کی مشاورت بھی شامل ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد ایک ارب ڈالر کے امدادی منصوبے کا اعلان کریں گے، جس میں امدادی مراکز کا قیام اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی شامل ہو گی۔

غزہ میں جاری جنگ، فاقہ کشی اور مسلسل حملوں نے علاقے کو بدترین انسانی بحران میں دھکیل دیا ہے، جبکہ عالمی برادری کی خاموشی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

Scroll to Top