پشاور: کوہستان کرپشن اسکینڈل میں اہم پیش رفت ہوئی ہے جہاں 40 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کا پیسہ 56 کمپنیوں اور افراد کے اکاؤنٹس میں رکھنے کا انکشاف ہوا ہے۔
نیب پشاور کی تحقیقاتی ٹیم نے کیس کی تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا ہے۔
تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ان 56 کمپنیوں اور افراد کے اکاؤنٹس سے 36 ارب روپے کی رقم نکلوائی گئی ہے۔ نیب حکام کا کہنا ہے کہ کوہستان کرپشن کیس میں مزید پانچ افراد کی گرفتاری ممکن ہے۔
رقم نکلوانے والوں میں مختلف سات پرائیویٹ کمپنیوں کے مالکان اور تین ٹھیکیدار شامل ہیں۔
اربوں روپے کی رقم ایک سو سے زائد اکاؤنٹس میں رکھی گئی تھی جن کا فرانزک آڈٹ جاری ہے۔ کئی اکاؤنٹس بے نامی رکھے گئے تھے جن سے چھ ارب روپے کی رقم نکلوائی گئی۔
نیب تحقیقاتی ٹیم کو جنرل پشاور آفس نے بھی اپنی رپورٹ فراہم کر دی ہے۔ مزید برآں نیب تحقیقات میں پانچ ارب روپے کے 1200 چیکس کا ریکارڈ بھی ملا ہے، جبکہ ٹرک ڈرائیور ممتاز خان کے اکاؤنٹ میں سولہ ارب روپے کی ٹرانزیکشن ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : گوادر میں وسیع پیمانے پر اراضی کی الاٹمنٹ کی تفصیلات سامنے آگئیں
اس کیس میں سات سرکاری افسران اور پبلک آفس ہولڈرز کے ملوث ہونے کا شبہ ہے، جنہیں تحقیقات کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔
ان افراد کے ممکنہ کردار کی بھی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اس مقدمے میں چھ ملزمان پہلے ہی گرفتار ہو چکے ہیں جن کا عدالتی ٹرائل جاری ہے۔
نیب کی جاری تحقیقات سے امید کی جا رہی ہے کہ مزید ملزمان کو جلد گرفتار کر کے کرپشن کے اس گھناؤنے کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔





