سوات میں معذور افراد کا حقوق کے حصول کیلئے احتجاجی مظاہرہ

شہزاد نوید

سوات ڈیسیبل فورم کے زیراہتمام معذور افراد نے اپنے مطالبات کے حق میں سوات پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے۔

یوم آزادی کے موقع پر ہونے والے اس مظاہرے میں چیئرمین سید ذوالفقار علی،صدر غلام احد، جنرل سیکرٹری فیصل یوسفزئی سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں معذور افراد کے لئے کی گئی قانون سازی پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں 2 فیصد سرکاری نوکریوں کا کوٹہ مقرر کیا گیا تھاجسے سابق وزیر اعلیٰ محمود خان نے بڑھا کر 4 فیصد کیا مگر اب تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ہےجو کہ افسوسناک ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ روزگار کے قابل معذور افراد کو نوکریاں اور جو قابل نہیں ان کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا جائے، صوبائی، قومی اور بلدیاتی اداروں میں خصوصی نشستیں دی جائیں اور سرکاری جگہوں پر ہر قسم کے ٹیکس سے معذور افراد کو استثنیٰ دیا جائے۔

مقررین نے مطالبہ کیا کہ ہسپتالوں میں معذور افراد کے لئے علیحدہ کاؤنٹر قائم کئے جائیں، رجسٹرڈ معذور افراد کو الیکٹرک وہیل چیئرز فراہم کی جائیں، بیرون ملک علاج اور تعلیم کے لیے اسکالرشپس دی جائیں اور امتحانی مراکز ان کے آبائی علاقوں میں قائم کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں اور بازاروں میں بھیک مانگنے والے معذور افراد کو روزگار فراہم کیا جائے اور جو اس قابل نہیں انہیں فلاحی اداروں کے حوالے کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : چیئرمین پی ٹی آئی نے باجوڑ اپریشن کی مخالفت کردی

آخر میں مقررین نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ معذور افراد کے تمام جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کئے جائیں.

Scroll to Top