گلگت بلتستان سیلاب اور وبائی امراض کی لپیٹ میں، ہزاروں افراد متاثر

گلگت بلتستان حالیہ دنوں میں شدید قدرتی آفات کی لپیٹ میں ہے جہاں ایک جانب تباہ کن سیلاب نے زندگی کے تمام شعبوں کو مفلوج کر دیا ہے تو دوسری جانب پینے کے صاف پانی کی قلت نے وبائی امراض کو جنم دے کر صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

جمعرات کے روز مختلف علاقوں میں آنے والے سیلابی ریلوں کے باعث شاہراہِ بابوسر سمیت کئی اہم راستے بند ہو گئے، ایک گاڑی پانی میں بہہ گئی جبکہ ایک بچہ زخمی ہو گیا۔ سیلاب نے بعض مکانات کو نقصان پہنچایا، کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں اور زرعی زمینیں بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔

ترجمان حکومت گلگت بلتستان فیض اللہ فراق کے مطابق شاہراہِ بابوسر دو مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر ناقابلِ آمدورفت ہو گئی، زیرو پوائنٹ کو احتیاطی تدابیر کے طور پر عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ سیاحوں اور مسافروں کو محفوظ مقامات پر روکنے کے لیے ٹورِسٹ پولیس کو متحرک کر دیا گیا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے تمام متعلقہ اداروں کو فوری طور پر سڑکوں کی بحالی کے احکامات جاری کر دیے ہیں تاکہ آمد و رفت جلد از جلد بحال کی جا سکے۔

غذر کی تحصیل یاسین کے دیہات دَاپَس، حرف اور اشکائی مکمل طور پر زیر آب آ چکے ہیں، جہاں یاسین تھوئی گاؤں میں واقع ڈی جے اسکول، ڈسپنسری، رابطہ سڑکیں اور پانی ذخیرہ کرنے والا ٹینک بھی تباہ ہو چکا ہے۔ دیوسائی علی ملک ٹاپ اور سدپارہ روڈ بھی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہیں جبکہ تھور نالے میں طغیانی کے سبب مزید نقصانات کا خدشہ ہے۔

غذر کے سیاسی رہنما ظفر شادم خیل کے مطابق برگل اور چٹوکھنڈ کے علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر عوامی املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ دریائے گلگت میں طغیانی کی وجہ سے نشیبی علاقے کٹاؤ کی زد میں ہیں جہاں گھروں اور کھیتوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

دوسری جانب سیلاب کے بعد پیدا ہونے والے صاف پانی کے بحران نے عوام کو شدید وبائی امراض میں مبتلا کر دیا ہے۔ محکمہ صحت گلگت بلتستان کے سیکریٹری آصف اللہ کے مطابق اگست کے مہینے میں خطے بھر میں اسہال، ہیضہ، ٹائیفائیڈ، نمونیا اور ہیپاٹائٹس جیسے خطرناک امراض میں ہزاروں افراد مبتلا ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : کویت نےاہلخانہ کو وزٹ ویزے پر بلانے کیلئے اہم شرط ختم کردی

محمکہ صحت کی رپورٹ کے مطابق صرف اسہال کے 3,321 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سب سے زیادہ کیسز اسکردو، دیامر، استور اور گانچھے سے سامنے آئے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں نمونیا کے 565 کیسز رجسٹر ہوئے جن میں دیامر اور غذر سرفہرست رہے۔ ٹائیفائیڈ کے بھی سینکڑوں کیسز رپورٹ ہوئے جن میں استور اور دیامر نمایاں رہے، جبکہ مشتبہ ہیضہ اور ہیپاٹائٹس کے کیسز بھی تشویش ناک حد تک بڑھے ہیں۔

Scroll to Top