ملک بھر میں جاری موسلادھار بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی، آزاد کشمیر، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں ہلاکتوں کی تعداد 30 تک جا پہنچی، درجنوں افراد زخمی اور بے گھر ہو گئے ہیں، کئی علاقوں میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
آزاد کشمیر کے ضلع نیلم ویلی میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث شدید تباہی دیکھنے میں آئی، 20 مکانات ملبے تلے دب گئے، ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوا، وادی نیلم میں پھنسے 50 سیاحوں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے جبکہ مزید 60 کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
باغ کے علاقے میں نالے میں سیاحوں کی گاڑی بہہ گئی، 4 افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا، جہلم ویلی میں لینڈ سلائیڈنگ اور بجلی کی معطلی نے معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کر دیا ہے، پل، سڑکیں، دکانیں اور تعلیمی ادارے تباہ ہو چکے ہیں، ہجیرہ میں دریائے پونچھ میں پھنسے تین افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں بھی بارشوں نے قہر برپا کر رکھا ہے، باجوڑ کی تحصیل سلارزئی میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث 9 افراد جاں بحق ہو گئے، لوئر دیر میں مکان کی چھت گرنے سے 5 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 4 زخمی ہوئے، بالاکوٹ میں دو پل سیلابی ریلے میں بہہ گئے جس سے آمد و رفت معطل ہو گئی۔
گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں گلشیائی جھیل کے پھٹنے سے پورا گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گیا، حادثے میں 6 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ متعدد مکانات، دکانیں اور گاڑیاں تباہ ہو گئیں، یاسین اور دائین میں 2 افراد دریا میں ڈوب کر جاں بحق ہوئے جبکہ دیامر بونیر میں بہن بھائی لاپتہ ہو گئے ہیں۔
اشکومن میں سیلابی ریلے نے 15 مکانات اور وسیع زرعی زمینوں کو نقصان پہنچایا، شاہراہ بلتستان اور سدپارہ میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث راستے بند ہو گئے ہیں جس سے علاقے میں رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: باجوڑ میں سیلابی ریلے سے کئی گھر تباہ، متعدد افراد ملبے تلے دب گئے، تلاش جاری
اسلام آباد، پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے جس کے باعث ہنگامی اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔





