نیب خیبر پختونخوا کا کوہستان کرپشن کیس میں بڑا اقدام، مزید 5 ملزمان گرفتار،افسران بھی شامل

قومی احتساب بیورو (نیب) خیبر پختونخوا نے کوہستان کے 40 ارب روپے کے میگا کرپشن کیس میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے مزید پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار شدگان میں دو سابق بینک منیجرز اور اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کے ایک سینئر آڈیٹر بھی شامل ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک اس کیس میں کل 15 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جن میں سے 10 ملزمان عدالتی ریمانڈ پر جیل میں موجود ہیں جبکہ پانچ دیگر افراد جسمانی ریمانڈ پر نیب کے قبضے میں ہیں۔ اس اسکینڈل میں سرکاری ملازمین، بینک اہلکاروں اور ٹھیکیداروں کے شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔

نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل محمد علی نے عدالت میں بتایا تھا کہ ملزمان نے سرکاری خزانے سے غیر قانونی طور پر 40 ارب روپے سے زائد رقم نکالی ہے۔ انہوں نے اسے خیبر پختونخوا کی تاریخ کے سب سے بڑے کرپشن کیسز میں سے ایک قرار دیا اور بتایا کہ اب تک اربوں روپے کی ریکوری کر لی جا چکی ہے تاہم تحقیقات جاری ہیں۔

نیب نے اب تک 8 سے زائد ملزمان کو گرفتار کرکے 25 ارب روپے کے قیمتی اثاثے برآمد کیے ہیں جن میں عالیشان مکانات، 77 قیمتی گاڑیاں، بنگلے، اپارٹمنٹس اور ایک ارب روپے نقد شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، 5 ارب روپے سے زائد رقم بینک اکاؤنٹس میں منجمد بھی کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ملک میں سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

اس کارروائی کے بعد نیب نے واضح کیا ہے کہ کرپشن کے خلاف ان کا موقف سخت ہے اور وہ اس کیس میں مزید گرفتاریوں اور ریکوری کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے گا۔

Scroll to Top