ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی وطن واپسی کا عمل جاری ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ روز مزید 1,062 افغان باشندوں کو طورخم سرحد کے راستے افغانستان واپس بھیج دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل (ایکسپریس نیوز)کے مطابق ملک بدر کیے گئے افراد میں سے 776 افغان شہری ’’پی او آر‘‘ کارڈ ہولڈرز تھے، جبکہ 163 افراد کے پاس اے سی سی (Afghan Citizen Card) موجود تھا۔اس کے علاوہ 123 افغان باشندے ایسے بھی تھے جو کسی قسم کی قانونی دستاویزات کے بغیر پاکستان میں مقیم تھے۔یہ افراد پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں رہائش پذیر تھے اور انہیں لنڈی کوتل میں قائم ٹرانزٹ کیمپ میں منتقل کرنے کے بعد ملک بدر کیا گیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یکم اپریل 2025 سے اب تک 75,000 سے زائد افغان شہریوں کو لنڈی کوتل ٹرانزٹ کیمپ سے وطن واپس بھیجا جا چکا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا، اور قانونی دستاویزات کے بغیر قیام کرنے والوں کو مرحلہ وار ملک بدر کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ حکومت پاکستان نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں، بالخصوص افغان شہریوں، کے خلاف کارروائی کا آغاز گزشتہ برس کیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا اور غیر قانونی مہاجرین کے قیام سے پیدا ہونے والے سماجی و سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنا ہے۔





