پشاور میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور صورتحال روز بروز سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ 80 کلو آٹے کی بوری کی قیمت میں مزید 300 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد فی بوری نرخ 10 ہزار روپے سے بڑھ کر 10,300 روپے تک پہنچ گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اب تک آٹے کی فی بوری قیمت میں مجموعی طور پر ساڑھے چار ہزار روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔
اسپیشل آٹے کی 20 کلو بوری 2400 روپے تک فروخت کی جا رہی ہے، جو عام شہری کی قوت خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔
پنجاب سے آٹے کی سپلائی پر پابندی کے بعد قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
دوسری جانب روٹی کا وزن بھی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ 170 گرام وزنی روٹی اب 120 گرام تک آگئی ہے، جبکہ کئی علاقوں میں 100 گرام کی روٹی کم ہو کر صرف 60 گرام کی رہ گئی ہے، لیکن قیمت وہی لی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : یوم دفاع پر آئی ایس پی آر نے جوش و جذبے سے بھرپور ترانہ جاری کردیا
ذرائع کے مطابق پرانے اسٹاک کو بھی نئی قیمتوں پر فروخت کیا جا رہا ہے، جس سے عوام کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں میں آٹے کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔
مزید برآں قبائلی علاقوں اور افغانستان کو آٹے کی اسمگلنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس سے مقامی سطح پر آٹے کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ مزید بڑھ گیا ہے۔





